مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 281
مکتوبات احمد ۲۲۰ جلد سوم بھی دلا دی۔اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ میں جب اپنے حلقہ میں چلا گیا۔تو اس کے پندرہ بیس روز کے بعد اپنا ایک خاص آدمی میرے پاس بھجوا کر مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک اپنا خاص اعتباری نج کا کام میرے سپرد کر دیا اور مجھ کو بر کمان اپنے پاس رکھ لیا اور میری جگہ پر میری خواہش اور درخواست کے مطابق میرے ایک شاگر دعزیز عطاء الہی کو جو غوث گڑھ کا رہنے والا ہے اس حلقہ غوث گڑھ پر میرا قائم مقام پٹواری کر دیا۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے اس کام کو عرصہ ایک سال میں بہت عمدگی کے ساتھ سرانجام دیا جس سے اسے بہت ہی خوشی ہوئی۔اس عرصہ میں اُس نے اپنے ماتحت ایک آسامی پر جس کی تنخواہ میری اس وقت کی موجودہ تنخواہ سے دو چند سے بھی زیادہ تھی بغیر میری خواہش اور اطلاع کے مجھے ترقی دلا دی اور اس کی منظوری بھی لے لی۔اس کے بعد مجھے اس نے اطلاع دی۔لیکن یہ بات مجھے پسند نہ آئی کیونکہ میں غوث گڑھ ہی میں رہنا پسند کرتا تھا۔جب اس کی منشا کے مطابق میں اس کے کام کو سرانجام دے چکا اور اس سے فارغ ہو گیا تو چونکہ وہ کام اس کے بہت بڑے دنیوی فائدہ کا تھا۔اس لئے وہ بہت ہی خوش ہوا اور اس موقع پر اس نے نوکروں کو انعامات دیئے۔اس وقت میں نے موقع پا کر اُس سے کہا کہ آپ مجھے بھی کچھ انعام دیجئے۔اُس نے کہا اچھا کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ آپ مجھے خوشی سے علاقہ غوث گڑھ میں عہدہ پٹوار پر ہی واپس کر دیں۔میں ترقی لینا نہیں چاہتا اس پر وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ تو تو بیوقوف ہے۔تیرے ساتھ میں بھی بیوقوف بن جاؤں۔میں تو تجھ کو اس سے بھی زیادہ ترقی دے کر اپنی پیشی میں رکھنا چاہتا ہوں۔میں نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔آپ مجھے پٹوار پر حلقہ غوث گڑھ میں واپس کر دیں۔اس کے بعد میرے والد صاحب اور دوسرے اقرباء کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ ناظم مجھے اپنی پیشی میں رکھنا چاہتا ہے اور میں انکار کر رہا ہوں اور پٹوار پر غوث گڑھ واپس آنا چاہتا ہوں۔اس بات سے میرے والد صاحب و دیگر متعلقین سب ناراض ہوئے۔آخر میں نے یہ معاملہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک آپ کا غوث گڑھ میں رہنا مفید ہے۔اس پر میں نے سب کو قطعی جواب