مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 280
مکتوبات احمد ۲۱۹ جلد سوم ( نوٹ ) مولوی عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اس دُعا کی قبولیت ایک عظیم الشان نشان کی صورت میں دیکھی جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ محکمہ نظامت بسی (ریاست پٹیالہ ) میں ایک مال کے مقدمہ میں ایک شہادت کے لئے میری طلبی ہوئی تھی اور میرا ارادہ اس رمضان میں غوث گڑھ کی مسجد میں اعتکاف کرنے کا تھا۔ناظم صاحب بھی چونکہ مسلمان اور پابند صوم وصلوٰۃ تھے۔میں نے پروا نہ طلبی پر رپورٹ کر دی کہ یہ میرے اعتکاف کے دن ہوں گے۔اس لئے مہربانی فرما کر کوئی اور تاریخ مقرر فرما دیں۔اس پر میں حاضر ہو جاؤں گا۔اس رپورٹ کے پیش ہونے پر ناظم صاحب نے اس غصہ میں آکر کہ ہمارے حکم کی تعمیل نہیں کی مجھے معطل کر دیا اور اسی تاریخ پر حاضری کا مجھے مکر رحکم بھیج دیا۔میں اعتکاف تو ڑ کر کسی میں حاضر عدالت ہو گیا۔دو مہینہ بھر میں وہاں ہر روز کچہری میں پورے وقت کے لئے حاضر ہوتا رہا کوئی پیشی نہ ہوئی۔جس پر میرے ایک عزیز بھائی ہاشم علی صاحب زراہ ہمدردی میرے پاس وہاں بسی میں پہنچے اور مجھ سے کہا کہ اس طرح پر تو معلوم نہیں آپ کو کب تک یہاں بیٹھے رہنا پڑے۔میں اس ناظم کے کسی رشتہ دار کی اس کے پاس سفارش لے آتا ہوں۔یہ حاضر کر لے گا۔میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ مجھے اس بارہ میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت لے لینے دیں۔اس کے بعد جس طرح پر ارشاد ہو گا کریں گے۔چنانچہ میں نے حضور کی خدمت میں اس بارہ میں مفصل عریضہ لکھ دیا اور اس میں لکھا کہ اگر حضور ا جازت دیں تو اس کے پاس کسی کی سفارش کرالی جائے۔میرے اس عریضہ کے جواب میں حضور نے یہ خط خاکسار کو لکھا جس میں یہ بشارت تھی کہ اس کے لئے حضرت باری عزاسمہ میں تہجد میں دعا کی گئی۔مجھے اس والا نا مہ کے پہنچتے ہی اطمینان ہو گیا اور میں نے منشی ہاشم علی صاحب کو کہہ دیا کہ اب کسی سفارش کی ضرورت نہیں کیونکہ حضرت صاحب نے خدا تعالیٰ کی جناب میں سفارش فرما دی ہے اور مجھے اطمینان ہو گیا ہے کہ اب میرا کام بن گیا ہے۔اس کے بعد منشی ہاشم علی صاحب واپس چلے گئے اور اس سے تین چار روز بعد میری پیشی ہوگئی۔ناظم صاحب نے اظہار افسوس کے ساتھ اپنے حکم کو واپس لیا اور مجھے کام پر واپس حاضر کر دیا اور ایام معطلی کی تنخواہ