مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 267
مکتوبات احمد ۲۰۶ جلد سوم مکتوب نمبر ۲۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مشفقی اخویم میاں عبداللہ صاحب سنوری نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ میں سترہ روز سے لودہانہ میں آیا ہوا ہوں۔محلہ اقبال گنج اترا ہوا ہوں۔آپ کو اطلاع دی گئی تھی مگر کمال افسوس کہ آپ کا خط تک نہیں آیا۔ابھی میں ۴ / مارچ ۹۰ ء تک اسی جگہ ہوں اس لئے مکلف ہوں کہ اپنی خیریت سے اطلاع دیں اور اگر ایک دن کے لئے آجائیں تو بہت خوب۔راقم از طرف حامد علی اور حافظ نور احمد السلام علیکم ۲۲ فروری ۱۸۹۰ء غلام احمد از لودہانہ اقبال گنج مکتوب نمبر ۲۲ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلّمۂ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عرصہ دو ماہ سے یہ عاجز بیمار ہے۔پہلے دنوں میں بیماری کی ایسی شدت ہوئی تھی۔بظاہر امید زندگی منقطع ہو چکی تھی بلکہ خبر وفات مشہور ہوگئی تھی۔اب بفضلہ تعالیٰ بہت کچھ آرام ہے۔مگر تا ہم ضعف و ناتوانی اس قدر ہے کہ خط لکھنا تو درکنار، خط لکھوانا بھی مشکل ہے اور ہر طرف سے خط بکثرت آتے ہیں۔آپ اگر براہ مہربانی اس وقت اپنے وعدہ کا ایفا فرما دیں۔یعنی ایک دو ماہ تک یہاں رہ جاویں تو مجھ کو بہت مدد ملے گی اور آپ کو ثواب ہو گا۔بخدمت مولوی محمد یوسف صاحب السلام علیکم۔براہ مہربانی یہ خط جہاں میاں عبداللہ صاحب ہوں۔وہیں پہنچا دیں۔والسلام مرسله مرزا غلام احمد از قادیان ۳۱ رمئی ۹۰ء یه خط و نیز خطوط نمبر ۲۳ لغایت ۲۵ حضرت اقدس کے اپنے دست مبارک کے لکھے ہوئے نہیں مگر لفظ بہ لفظ لکھوائے ہوئے حضرت اقدس ہی کے ہوتے ہیں۔واللہ اعلم )