مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 249
مکتوبات احمد ۱۸۸ جبی فی اللہ میاں عبداللہ سنوری۔یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان وفا دار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا۔وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور میں ہمیشہ بنظرِ امعان اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتا رہا ہوں۔سومیری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان در حقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے اور میرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کے بجز اس بات کے اور کوئی بھی وجہ نہیں جو اس کے دل میں یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص محبانِ خدا و رسول میں سے ہے اور اس جوان نے بعض خوارق اور آسمانی نشان جو اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے بچشم خود دیکھے ہیں جن کی وجہ سے اس کے ایمان کو بہت فائدہ پہنچا۔الغرض میاں عبداللہ نہایت عمدہ آدمی اور میرے منتخب محبوں میں سے ہے اور باوجو د تھوڑے سے گزارہ ملازمت پٹوار کے ہمیشہ حسب مقدرت اپنی خدمت مالی میں بھی حاضر ہے اور اب بھی بارہ ہو تو یہ سالانہ چندہ کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔بہت بڑا موجب روپیہ میاں عبد اللہ کے زیادت خلوص و محبت و اعتقاد کا یہ ہے کہ وہ اپنا خرچ بھی کر کے ایک عرصہ تک میری صحبت میں آکر رہتا رہا اور کچھ آیات ربانی دیکھتا رہا۔سو اس تقریب سے روحانی امور میں ترقی پا گیا۔کیا اچھا ہو کہ میرے دوسرے مخلص بھی اس عادت کی پیروی کریں۔پر ا ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۱ جلد سوم