مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 17

مکتوبات احمد ۱۷ جلد سوم حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام تعارفی نوٹ لم حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ لودہا نہ محلہ جدید میں ایک صاحب ارشاد بزرگ تھے اور ان کے مریدوں کی بہت بڑی تعداد تھی ۔ ان کا مفصل تذکرہ کتاب تعارف میں انشاء اللہ العزیز آئے گا ۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے متعلق حضرت حکیم الامة خلیفہ مسیح اوّل رضی اللہ عنہ کو ایک مکتوب مورخہ ۲۳ جنوری ۱۸۸۸ء میں مختصر تذکرہ لکھا ہے اور اس وقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی شادی کی تجویز حضرت منشی صاحب کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ مد ظلہا سے ہو رہی تھی ۔ حضرت نے تحریر فرمایا کہ : ۔ اب میں تھوڑ اسا حال منشی احمد جان صاحب کا سناتا ہوں ۔ منشی صاحب مرحوم اصل میں متوطن دہلی کے تھے ۔ شاید ایام مفسدہ ۱۸۵۷ء میں لودہا نہ آکر آباد ہوئے ۔ کئی دفعہ میری ان سے ملاقات ہوئی ۔ نہایت بزرگوار، خوبصورت ، خوب سیرت ، صاف باطن، متقی ، با خدا اور متوکل آدمی تھے ۔ مجھ سے اس قدر دوستی اور محبت کرتے تھے کہ اکثر ان کے مریدوں نے اشارتا اور صراحتاً بھی سمجھایا کہ آپ کی اس میں کسرشان ہے ۔ مگر انہوں نے ان کو صاف جواب دیا کہ مجھے کسی شان سے غرض نہیں اور نہ مجھے مریدوں سے کچھ غرض ہے ۔ اس پر بعض نالائق خلیفے ان کے منحرف بھی ہو گئے مگر انہوں نے جس اخلاص اور محبت پر قدم مارا تھا اخیر تک نباہا اور اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کی ۔ جب تک زندہ رہے خدمت کرتے رہے اور دوسرے تیسرے مہینے کسی قدر روپے اپنے رزقِ خداداد سے مجھے بھیجتے رہے ۔ اور میرے نام کی اشاعت کے لئے بہ دل و جان ساعی رہے۔ اور پھر حج کی تیاری کی۔ اور جیسا کہ انہوں نے اپنے ذمہ مقدر کر رکھا تھا ۔ جاتے وقت بھی پچیس روپے بھیجے اور ایک بڑا لمبا اور دردناک خط لکھا ۔ جس کے پڑھنے سے رونا آتا تھا۔ اور حج سے آتے وقت ۲۵