مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 220
مکتوبات احمد ۱۵۹ حضرت مولوی ابوالخیر عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک زمانہ دراز تک لوگوں کی بیعت نہیں لی اور جب کبھی کوئی شخص بیعت کے لئے عرض کرتا تو آپ یہی فرماتے تھے کہ مجھے حکم نہیں یا میں مامور نہیں لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بیعت لینے پر مامور فرمایا تو آپ نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء مطابق ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ کو لودہا نہ میں بیعت لی۔یہ بیعت حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کے ایک مکان میں ہوئی جو اس وقت دار البیعت کے نام سے جماعت لو د ہانہ کے قبضہ میں ہے۔اس بیعت کے بعد سب سے پہلا آدمی جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کی اجازت دی وہ مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب ولد ابوعبداللہ احمد قوم افغان سکنہ تنگی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور ہیں۔افسوس ہے کہ آج ان کے تفصیلی حالات سے ہم واقف نہیں۔تاہم میں اس کوشش اور فکر میں ہوں کہ ان کے حالات معلوم ہوسکیں۔مکرمی صاحبزادہ سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مولوی ابوالخیر صاحب کو دیکھا تھا۔تمیں پنتیس سال کے خوش رو نو جوان تھے۔میانہ قد تھا ، ذی علم اور متقی انسان تھے۔ان کے چہرہ سے رُشد اور سعادت کے آثار نمایاں تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جو اجازت نامہ مولانا ابوالخیر عبد اللہ صاحب کو لکھ کر دیا تھا وہ تاریخ بیعت سے پورے ایک ماہ چھ دن بعد لکھا یعنی ۲۹ را پریل ۱۸۸۹ء مطابق ۲۸ شعبان ۱۳۰۶ھ۔اس اجازت نامہ کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ آپ کن لوگوں سے بیعت لینا چاہتے تھے اور بیعت لینے والے کے فرائض کیا یقین کرتے تھے؟ اس سے اس روح کا پتہ لگتا ہے جو آپ کے اندر اپنے خدام کے لئے تھی یعنی آپ اپنے خادموں کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے تا کہ ان میں وہ تبدیلی پیدا ہو جائے جو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب سابقون الاولون میں سے ہیں۔انہوں نے جلد سوم