مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 212

مکتوبات احمد ۱۵۱ جلد سوم مکتوب نمبرا مقلدین اور غیر مقلدین کے متعلق ایک اہم مکتوب مند و می مکرمی اخویم ستلمه بعد سلام مسنون مقلدین و غیر مقلدین کے بارے میں جو آپ نے خط لکھا تھا اس میں کس فریق کی زیادتی ہے۔سواس عاجز کی دانست میں مقلدین و غیر مقلدین کے عوام افراط و تفریط میں مبتلا ہور ہے ہیں اور اگر وہ صراط مستقیم کی طرف رجوع کریں حقیقت میں ایک ہی ہیں۔دین اسلام کا مغز اور لب لباب تو حید ہے۔اسی توحید کے پھیلانے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور قرآن شریف نازل ہوا۔سو تو حید صرف اس بات کا نام نہیں جو خدا تعالیٰ کو زبان سے وحدہ لاشریک کہیں اور دوسری چیزوں کو خدا تعالیٰ کی طرح سمجھ کر ان سے مرادیں مانگیں۔اور نہ تو حید اس بات کا نام ہے کہ گو بظاہر تقدیری اور تشریعی امور کا مبدء اسی کو سمجھیں مگر اس کی تقدیر اور تشریع میں دوسروں کا اس قدر دخل روا رکھیں گویا وہ اس کے بھائی بند ہیں۔مگر افسوس کہ عوام مقلدین (حنفی ) ان دونوں قسموں کی آفتوں میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ان کے عقائد میں بہت کچھ شرک کی باتوں کو دخل ہے اور اولیاء کی حیثیت کو اُنہوں نے ایسا حد سے بڑھا دیا ہے کہ اَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللهِ تک نوبت پہنچ گئی ہے۔دوسری طرف امور تشریعی میں ائمہ مجتہدین کی حیثیت کو ایسا بڑھایا ہے کہ گویا وہ بھی ایک چھوٹے چھوٹے نبی مانے گئے ہیں حالانکہ جیسا امور قضا و قدر میں وحدت ہے۔ایسا ہی تبلیغ کے کام میں بھی وحدت ہے۔مقلّد لوگ تب ہی راستی پر آسکتے ہیں اور اسی حالت میں ان کا ایمان درست ہوسکتا ہے جب صاف صاف یہ اقرار کر دیں کہ ہم ائمہ مجتہدین کی خطا کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔غضب کی بات ہے کہ غیر معصوم کو معصوم کی طرح مانا جائے۔ہاں بے شک چاروں امام قابل تعظیم اور شکر گزاری ہیں۔ان سے دنیا کو بہت فوائد پہنچے ہیں مگر ان کو پیغمبر کے درجے پر سمجھنا ، صفات نبوی ان میں قائم کرنا