مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 197
مکتوبات احمد ۱۴۳ مکتوب نمبر ۳ جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبی اخویم صاحبزادہ افتخار احمد صاحب آپ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کا کارڈ پہنچ کر دختر معصومہ محمودہ بیگم کی خبر وفات سن کر والدہ محمود کو بہت ہی رنج اور غم ہوا جو اس خط میں آ نہیں سکتا اور سخت قلق اور اندوہ جو خیال میں نہیں تھا انہوں نے ظاہر کیا۔ آخر ان کو نصیحت اور صبر کے وعظ ۔۔۔ سے شکیب کے لئے کہا گیا کیونکہ یہ امر قضاء و قدر ہے کسی کے اختیار میں نہیں ۔ چاہئے کہ آپ بھی اسی طرح صبر کریں اور ان کی طرف سے آپ کے گھر کے لوگوں کو السلام علیکم پہنچے اور نیز یہ کہ ہم کو آپ سے اس حادثہ سے کچھ کم رنج نہیں پہنچا۔ مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر میں بجز صبر و شکیب کے اور کچھ چارہ نہیں اور نیز کہا ہے کہ لڑکا چھوٹا اب تک بیمار ہے ۔ تپ آتا ہے بہت ڈبلا کمزور ہو گیا ہے۔ اس لئے نہیں آسکی ورنہ میں ضرور لاتی اور ان کی والدہ صاحبہ نے سخت افسوس کیا ۔ باقی خیریت ۔ ۳۱ راکتو بر ۱۸۹۴ء والسلام خاکسار غلام احمد اور واضح ہو کہ میں نے آپ کے گھر کے لوگوں کو بار بار کہا تھا کہ ایسے وقت میں مت جاؤ اور بچوں پر ظلم مت کرو مگر انہوں نے ایک نہ مانی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جگہ کی ہوا بہت عمدہ تھی گویا بہشت سے دوزخ میں جا پڑے اور والدہ محمود کہتی ہے کہ اس سے پہلے دولڑکیاں میریاں لدیا نہ کی نذر ہو چکی تھیں اب تیسری بھی ان کی نافہمی سے یعنی آپ کے گھر کے لوگوں کی کو تہ اندیشی سے انہی لڑکیوں کے ساتھ جا ملی ۔ بہتیر اسمجھایا مگر کچھ نہ مانا ۔ ان کا کیا گیا لڑکی ہماری گئی ۔ اگر چہ تقدیر ہر یک جگہ آ جاتی ہے مگر رعایت اسباب بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور تاکیدا لکھا ہے کہ جس جگہ وبا ہو یا ہوا اچھی نہ ہو اس جگہ مت جاؤ۔ اس جگہ جانے میں خیر نہیں ۔