مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 136

مکتوبات احمد ۱۲۸ جلد سوم کس لئے ؟ کہ اِدھر تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا زور شور سے بیان کرنا ، وفات کا دلیلوں یعنی نصوص صریحہ قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت کرنا اور علماء اور ائمہ سلف کی شہادت پیش کرنا اور پھر مدعی مسیحیت کا کھڑا ہونا اور لوگوں کا رجوع کرنا اور آپ جیسے اور آپ سے بڑھ کر علما پلے کے مرید ہونے سے دنیا میں ہل چل مچ رہی ہے اور بحث اصل مسئلہ میں ہونی چاہئے یعنی عیسی علیہ السلام کی حیات و وفات میں“۔بس میں نے یہ خط لکھا اور حضرت اقدس علیہ السلام کو ملاحظہ کرا کے روانہ کر دیا۔اور آپ نے اس پر دستخط کر دیئے اور راقم سراج الحق نعمانی و جمالی سرساوی لکھا گیا۔مجھے یہ خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھنا اس واسطے ضروری ہوا تھا کہ میں اور مولوی صاحب ہم زُلف ہیں اور باوجود اس رشتہ ہم زُلف ہونے کے تعارف اور ملاقات بھی تھی اور قصبہ سرساوہ اور قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں ہیں اور ان دونوں قصبوں میں پندرہ کوس کا فاصلہ ہے اور ویسے برادرانہ تعلق بھی ہیں اور میری خوشدامن اور سسرال کے لوگ ان سے بعض مرید بھی ہیں۔بس یہ میرا خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ جانا تھا اور مولوی صاحب اور ان کے معتقدین اور شاگردوں میں ایک شور برپا ہونا تھا اور لوگوں کو ٹال دینا تو آسان تھا لیکن اس خاکسار کو کیسے ٹالتے اور کیا بات بتاتے بجز اس کے کہ مباحثہ کو قبول کرتے۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مخدوم مکرم پیر سراج الحق صاحب پہلے میں اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ تم مرزا کے پاس کہاں پھنس گئے۔تمہارے خاندان گھرانے میں کس چیز کی کمی تھی اور میں بحث کو مرزا سے منظور کرتا ہوں۔لیکن تقریری اور صرف زبانی۔تحریری حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب تم جانتے ہو کہ حکماء کا رجوع کرنا اور ہمارے ساتھ ہونا غلط نہیں ہے۔ایک تو حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب ہیں جو اُن سے کم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ کر ہی ہیں۔اور ایسا ہی مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب ہیں جنہوں نے رسالہ اعلامُ الناس چھپوا کر ہمارے دعوی کی تصدیق میں بھیجا ہے حالانکہ ان کی اور ہماری ابھی تک ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے۔اور یہ کیسا عجیب رسالہ کہ اس میں ہمارا مافی الضمیر دیا ہے اور اس میں ہمارا اور مولوی صاحب کا توارد ہو گیا ہے اور دو ایک اور مولویوں بھی لئے تھے جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے۔ہیں سیدھے نقل بمطابق اصل