مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 135
مکتوبات احمد ۱۲۷ جلد سوم مولوی رشید احمد گنگوہی سے مباحثہ کی تحریک اور آخر اس کا انکار میں ( پیر سراج الحق) نے ایک بار حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ یہ مولوی رہ گئے اور سب کی نظر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف لگ رہی ہے۔اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد صاحب کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں۔فرمایا اگر تمہارے لکھنے سے مولوی صاحب مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں تو ضرور لکھ دو اور یہ لکھ دو کہ وو مرزا غلام احمد قادیانی آج کل لودھیا نہ میں ہیں۔انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو گئی ، وہ اب نہیں آویں گے اور جس عیسی کے اس اُمت میں آنے کی خبر تھی۔وہ میں ہوں۔اور مولوی تو مباحثہ نہیں کرتے ہیں۔چونکہ آپ بہت سے مولویوں اور گروہ اہل سنت والجماعۃ کے پیشوا اور مقتدا مانے گئے ہیں اور کثیر جماعت کی آپ پر نظر ہے آپ مرزا صاحب سے اس بارہ میں مباحثہ کر لیں چونکہ آپ کو محدث اور صوفی ہونے کا بھی دعوئی ہے اور ماسوا اس کے آپ مدعی الہام بھی ہیں۔مدعی الہام اس واسطہ کر کے کہ مولوی شاہ دین اور مولوی مشتاق احمد اور مولوی عبدالقادر صاحب نے گنگوه مولوی رشید احمد صاحب متوفی کے پاس جا کر حضرت اقدس علیہ السلام کے الہامات جو براہین احمدیہ میں درج ہیں ، سنائے تھے۔مولوی رشید احمد صاحب نے چند الہام سن کر جواب دیا تھا کہ الہام کا ہونا کیا بڑی بات ہے۔ایسے ایسے الہام تو ہمارے مریدوں کو بھی ہوتے ہیں اور اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آپ کے مریدوں کو اگر ایسے الہام ہوتے ہیں تو وہ الہام ہمارے سامنے پیش کرنے چاہئیں تا کہ ان الہاموں کا یا آپ کے الہاموں کا، کیونکہ مریدوں کو جب الہام ہوں تو مرشد کو تو ان سے اعلیٰ الہام ہوتے ہوں گے ، موازنہ اور مقابلہ کریں اور لَو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ کی وعید سے ڈریں۔مولوی صاحب نے کہنے کو کہہ دیا مگر کوئی الہام اپنا یا کسی اپنے مرید کا پیش نہیں کیا کہ یہ الہام ہمارے ہیں اور یہ ہمارے مریدوں کے ہیں۔غرض کہ اب آپ کا حق ہے کہ اس بحث میں پڑیں اور مباحثہ کریں اور کسی طرح سے پہلو تہی نہ کریں۔الحاقة: ۴۵