مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 5
مکتوبات احمد جلد سوم سعدی شیرازی کے یہ دو مصرعے یاد آتے ہیں اور حسرت کے آنسو بہتے چلے جاتے ہیں۔مکن تکیه بر عمر نا مباش ایمن از بازی پائیدار روزگار عمر نا پائیدار پر تکیہ نہ کر اور روزگار کے اس کھیل سے کبھی اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھ۔اور دوسرے مصرعے فرخ سے قادیانی کے دیوان سے دل کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔بدنیائے دوں دل مبند اے جوان که وقت اجل ے رسد ناگہاں اے نو جوان اس گھٹیا دنیا سے دل نہ لگا۔کہ اجل کا وقت اچانک آ جایا کرتا ہے۔لہذا میں چاہتا ہوں کہ میں بقیہ عمر گوشتہ تنہائی میں بیٹھوں اور لوگوں کی صحبت سے دامن بچاؤں اور اللہ سبحانہ کی یاد میں مشغول ہو جاؤں تا گزشتہ پر عذر اور مافات کا تدارک ہو سکے۔عمر بگذشت و نماند است جز آیا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شام چند عمر گزرگئی ہے اور صرف چند قدم باقی رہ گئے ہیں بہتر ہے کسی کی یاد میں چند شاموں کو صبح کردوں۔دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔وَ أَيسَ مَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ افَةِ غَيْرِهِ۔و شخص مایوس ہو گیا جو دوسرے کی آفت دیکھ کر اپنے نفس کے بارہ میں خوف زدہ ہو جائے۔والسلام ے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرخ تخلص فرماتے تھے۔(ناشر)