مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 101
مکتوبات احمد ۹۳ جلد سوم مکتوب نمبر ۶ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم و مکرم صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل ایک خط خدمت میں روانہ کر چکا ہوں ۔ مگر آپ کے سوال کا جواب رہ گیا تھا سواب لکھتا ہوں ۔ علماء اس سوال کے جواب میں اختلاف میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ آخر یعنی اگر تم مریض ہو یا کسی سفر قلیل یا کثیر پر ہو تو اس قدر روزے اور دنوں میں رکھ لو۔ سو اللہ تعالیٰ نے سفر کی کوئی حد مقرر نہیں کی اور نہ احادیث نبوی میں حد پائی جاتی ہے ۔ بلکہ محاورہ عام میں جس قدر مسافت کا نام سفر رکھتے ہیں وہی سفر ہے ۔ ایک منزل جو کم حرکت ہو اس کو سفر نہیں کہا جاتا ۔ والسلام * ۲۱ جون ۱۸۸۵ء ۔ عاجز ☆ غلام احمد عفی عنہ ( نوٹ ) سفر میں روزہ کے متعلق بڑی عجیب و غریب بحثیں ہیں اور سفر کے تعین اور مقدار میں مختلف آراء ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ایسا آسان اور عام فہم اصل تعلیم فرما دیا ہے جس سے ایک عامی بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور حقیقت میں الدِّينُ يُسْر کے یہی معنی ہیں ۔ خود سفر اور حالت بیماری میں روزہ کو خدا تعالیٰ نے یسر کے رنگ میں بیان کیا ہے۔ پھر اس راس میں ایچا پیچی نئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ یہ حضرت کے تفقہ کا ایک بین ثبوت اور امتیاز ہے ۔ ( عرفانی کبیر ) البقره: ۱۸۵ الحکم نمبر ۵ جلد ۳۹ مورخه ۱۴ رفروری ۱۹۳۶ ء صفحه ۶