مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 86
مکتوبات احمد وغیرہ کا جواب لکھا ہے یا وہ اور سوال تھے۔ ۸۶ جلد دوم ۲۹ جون ۱۸۸۹ء کے ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۵۴ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ بلا شبہ کلام الہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات سے عشق پیدا ہونا ، اہل اللہ کے ساتھ جب صافی کا تعلق حاصل ہونا یہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالیٰ ، خاص اور مخلص بندوں سے ملتی ہے اور دراصل بڑی بڑی ترقیات کی یہی بنیاد ہے۔ اور یہی ایک تخم ہے جس سے بڑا ایک درخت یقین اور معرفت اور قوت ایمانی کا پیدا ہوتا ہے اور محبت ذاتیہ اللہ جل شانہ کا پھل اس کو لگتا ہے۔ فالحمد لله ثم الحمد لله - کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت جو راس الخیرات ہے، عطا فرمائی ہے پھر بعد اس کے جو کسل اور قصور بجا آوری اعمال حسنہ میں ہو وہ بھی انشاء اللہ القدیر ان حسنات عظیمہ کے جذبہ سے دور ہو جائے گا ۔ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ آپ کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔ جیسے آپ کے اخلاص نے بطور خارق عادت اس زمانہ کے ترقی کی ہے۔ ویسا ہی یہ جوش حب لله کا آپ کے لئے اور آپ کے ساتھ بڑھتا گیا اور چونکہ خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس درجہ اخلاص میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی شریک ہو ۔ اس لئے اکثر لوگوں کے دلوں پر جو سے دعوی تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ نے فیض وارد کئے اور آپ کے دل کو کھول دیا - هذا فضل الله و نعمته يعطى من يشاء و يهدى من يشاء ويضل من يشاء - حامد على سخت بیمار ہو گیا تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس کو دوبارہ زندگی بخشی ہے ۔ جس وقت آپ تشریف لاویں اگر هود: ۱۱۵