مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 73

مکتوب نمبر ۴۸ ژ ایک عام مکتوب از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مخدوم و مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔آپ کالفظ لفظ قوت ایمانی پر شاہد ناطق ہے۔عادۃ اللہ قدیم سے جاری ہے کہ وہ اپنے بندوں کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑتا اور ایسے ایمان کوقبول نہیں کرتا جو آزمائش سے پہلے انسان رکھتا ہے۔اگر بشیر احمد کی وفات میں ایک عظیم الشان حکمت نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ ایسا رحیم وکریم تھا کہ اگر بشیر عظم رمیم بھی ہوتا تب بھی اس کو زندہ کردیتا۔مگر اللہ جل شانہ نے یہی چاہا تا اس کے وہ سب کام پورے ہوں جن کااس نے ارادہ کیاہے۔بشیر احمد کی وفات کاحادثہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو ایک صاف باطن اور دانا انسان کے ٹھوکر کھانے کا باعث ہو سکے۔جب بشیر پیدا ہوا تو اس کی پیدائش کے بعد صدہا خطوط پنجاب اور ہندوستان سے اس مضمون کے پہنچے کہ آیا یہ لڑکا وہی ہے جس کے ہاتھ پر لوگ ہدایت پائیں گے۔تو سب کو یہی جواب دیا گیا کہ اس بارہ میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ہاں گمان غالب ہے کہ یہی ہو کیونکہ اس کی ذاتی بزرگی الہامات میں بیان کی گئی ہے۔ایسے جوابات کی یہ وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے اس پسر متوفی کے استعدادی کمالات اس عاجز پر کھول دیئے تھے اور اس بناء پر قیاسی طور پرگمان کیا گیا تھا کہ غالباً یہی مصلح موعود ہے۔کیونکہ اس کی ذاتی استعداد اور مقدّس اور مطہر ہونے کی حالت جو اس کی پیدائش کے بعد الہامات میں بیان کی گئی، وہ مصلح موعود کے برابربلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔مگر پیدائش کے بعد کوئی ایسا الہام نہیں ہوا کہ یہی مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اوراسی تصفیہ اور تفتیش کی غرض سے سراج منیر کے چھاپنے میں توقف در توقف ہوتی گئی۔الہامات جو اس پسر متوفی کی نسبت اس کی پیدائش کے بعد ہوئے ان سے خود مترشح ہوتا تھا کہ وہ خلق اللہ کے لئے ایک ابتلائے عظیم کا موجب ہو گا۔جیسا کہ یہ الہام ہوا۔اِنَّآ اَرْسَلْنَاہُ شَاھِدًا