مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 71

مکتوب نمبر۴۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا لڑکا بشیر احمد تئیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے ربّ انتقال کر گیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہونگی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوںگے، اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔وَاِنَّا رَاضُونَ بِرَضَائِہٖ وَصَابِرُوْنَ عَلٰی بَــلَا ئِہٖ یَرْضَی عَنَّا ھُوَ مَوْلَانَا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَھُوَ اَرْحَََمُ الرََّاحِمِیْنَ۔۴ ؍نومبر ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار نوٹ: یہ مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رضا بالقضاء کا کامل اظہار ہے۔آپ کو اس ابتلاء شدید میں اگر غم ہے تو صرف یہ کہ مخالفین اپنی مخالفت میں خدا سے دور جا پڑیں گے اور بعض موافقین کو شبہات پیدا ہوں گے مگر آپ ہرحال میں خدا کی رضا کے طالب ہیں اور خدا تعالیٰ کے اس فعل کو بھی کمال رحم کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے ہر بلاء پر صبر کرنے کے لئے بانشراح صدر تیار ہیں۔اس کے بعد حضرت نے ایک مبسوط خط مولوی صاحب کو وفات بشیر پر لکھا تھا جس کا وہی مضمون تھا جو حقانی تقریر میں شائع ہوا اس لئے اس خط کو چھوڑ دیا ہے۔