مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 64

مکتوب نمبر۳۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس خط کی تحریر سے مطلب آپ کو ایک تکلیف دینا ہے اور وہ یہ ہے کہ مرزا امام دین صاحب جو میرے چچا زاد بھائی ہیں ایک بیش قیمت گھوڑا ان کے پاس ہے جو خوش رفتار اور راجوں رئیسوں کی سواری کے لائق ہے۔اب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں چونکہ ایسے گراں قیمت گھوڑوں کو عام لوگ خرید نہیں سکتے اور رئیس خود ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں لہٰذا مُکلّف ہوں کہ آپ براہ مہربانی رئیس جموں یا اس کے کسی بھائی کے پاس تذکرہ کر کے جدوجہد کریں کہ تا مناسب قیمت سے وہ گھوڑا خرید لیں۔اگر خریدنے کا ارادہ ان کی طرف سے پختہ ہو جائے تو گھوڑا آپ کی خدمت میں بھیجا جاوے۔ضرور کوشش بلیغ کے بعد اطلاع بخشیں۔والسلام ۳؍ مارچ ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ: باوجودیکہ میرزا امام الدین صاحب سخت معاند و مخالف تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی سپارش کرنے میں مضائقہ نہیں فرمایا اور یہ مودّت فی القربیٰ کا ایک ثبوت ہے۔اور دشمنوں پر کرم و رحم کا ایک نمایاں نمونہ۔(عرفانی)