مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 63

مکتوبات احمد ۶۳ جلد دوم پاتا ہوں تو میرا غم و درد بالکل دور ہو جاتا ہے اور اس بات پر تازہ ایمان آتا ہے۔ كَتَبَ الله لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي میرا یقین ہے کہ زمانہ حال کے ابخرہ رویہ و مواد فاسدہ کا استیصال صرف خشک اور ظاہری دلائل سے ممکن نہیں ۔ تاریکی ہمیشہ نور سے دور ہوتی رہتی ہے اور اب بھی ایمانی انوار اس تاریکی کو دور کریں گے ۔ ایسے معرکہ میں وہ لوگ کام نہیں کر سکتے کہ لیکچر یا تقریر کرنے میں نہایت فصیح ہوں اور ایمانی و فاداریوں اور صدقوں کی بو تک نہ پہنچی ہو۔ ہاں اگر فضل و احسان الہی سے کسی انگریزی خوان میں یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں تو پھر وہ نور علی نور ہوگا اور اگر ایسے انگریزی خوان ہمیں میسر نہ آجائیں تو پھر بھی ہم ہرگز نا امید نہیں ۔ اور کیوں نا اُمید ہوں ۔ ہمارے پاس مواعید صادقہ حضرت اصدق الصادقین کا ایک ذخیرہ ہے اور ہماری تسلی کیلئے یہ آیات قرآن کریم کافی ہیں جن کو ہم پڑھتے ہیں ۔ اَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُوْلَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ہے۔ اب ہمیں انصاف کرنا چاہئے کہ ابھی تک ہم نے کیا دکھ اُٹھایا اور کون سے زلازل ہم پر آئے ، کس قدر صبر کرتے کرتے زمانہ گزرا۔ یہ تو سوء ادب ہے کہ ہم روز اول سے اپنے خدا وند کریم پر افسوس کریں کہ اس نے ہماری محنت کا کوئی نتیجہ نہیں دیا۔ ہمیں مستقل رہنا چاہئے ۔ بلا شبہ نتائج خیر ظہور میں آئیں گے ۔ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ " اس لڑکے کا حال آپ نے خوب یاد دلایا۔ میں بالکل بھول گیا تھا ۔ حافظہ ناقص و ہجوم کار از ہر طرف ۔ انشاء اللہ اب اس خیال میں لگوں گا اور اگر اس کے لئے وقت ملا تو توجہ کروں گا۔ خواہ جلدی یا کسی قدر دیر سے ، کیونکہ امر اختیاری نہیں ۔ وَمَا تنزل الامر بامر ربک * ۲۹ فروری ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ل المجادلة: ٢٢ البقرة : ۲۱۵ ۳ یونس : ۶۵ الحکم ۱۷ مارچ ۱۸۹۹ء صفحه ۳