مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 644
مکتوب نمبر ۲۷۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔امید کہ اشتہار ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء جس کے ساتھ جلسۃ الوداع کا بھی ایک پرچہ ہے۔آپ کے پاس پہنچ گیا ہو گا۔اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ اخویم مولوی محمد علی صاحب کی نسبت جو گورداسپور میں تحریک کی گئی تھی۔اس کو حد سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور درحقیقت اس طرح پر مولوی صاحب کا بڑ ا حرج ہوگیاہے۔کہ اگر آخر کار لوگ کسی رشتہ سے انکار کریں توکتنے اورعمدہ رشتے اسی انتظار میں ان کے ہاتھ سے چلے گئے۔یہ ایسا طریق ہے کہ خواہ مخواہ ایک شخص پر ظلم ہو جا تاہے۔جب اسی انتظار میں دوسرے لوگ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔چنانچہ بعض ہاتھ سے چلے گئے ہیں۔تو کس قدر یہ امر باعث تکلیف ہے۔لڑکی والے بعض اوقات دس روز بھی توقف ڈالنا نہیں چاہتے۔بلکہ توقف سے وہ لاپروائی سمجھتے ہیں۔اس لئے ناحق نقصان ہوجاتا ہے۔مناسب ہے کہ آپ رجسٹری کراکر ایک مفصل خط ان کو لکھ دیںکہ وہ ایک شریف اورمہذب ہیں۔آپ کے لئے انہوں نے دوسرے کئی رشتوں کو ہاتھ سے دیا ہے۔اس لئے مناسب ہے کہ ا ب آپ اپنے جواب باصواب سے جلد ان کو مسرورالوقت کریں اور پھر اگر وہ کسی ملازمت کے شغل میں لگ گئے تو فرصت نہیں ہو گی۔یہی دن ہیں کہ جن میں وہ اپنی شادی کرنا چاہتے ہیں۔اگر کسی پہلی شادی کا ذکر درمیان میں آوے تو آپ کہہ دیں کہ پہلی شادی تھی۔وہ رشتہ طلاق کے حکم میں ہے۔اس سے وہ کچھ تعلق نہیں رکھنا چاہتے اور شاید طلاق بھی دے دیا ہے۔غرض اس کا جواب آپ دوسری طرف سے بہت جلد لے کر جہاں تک جلد ممکن ہوسکے بھیج دیں۔میں ڈرتا ہوںکہ یہ توقف ان کی اس طرف کے لئے بہت حرج کا باعث نہ ہو جاوے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام