مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 643 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 643

مکتوب نمبر ۲۷۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔پہلا خط میں نے آم پہنچنے سے پہلے لکھا تھا۔اب اس وقت جووقت عصر ہے۔آم آئے اور کھولے گئے تو سب کے سب گندے اور سڑے ہوئے نکلے اور جو چند بصورت بیداغ معلوم ہوئے ان کا مزہ بھی تلخ رسوت کی طرح ہو گیا تھا۔غرض سب پھینک دینے کے لائق ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس قدر تکلیف اٹھائی اور خرچ کیااور ضائع ہوا۔مگر پھر بھی ضائع نہیں ہوا۔کیونکہ آپ کو بہرحال ثواب ہو گیا۔اب یہ خط اس لئے دوبارہ لکھتا ہوں کہ آپ دوبارہ خرچ سے بچے رہیں۔اگر آپ کا دوبارہ بھیجنے کا ارادہ ہو تو سرولی کا آم جو سبز اور نیم خام اور سخت ہو بھیجیں۔یہ آم ہر گز نہ بھیجیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام یکم جولائی ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ خط اس غرض سے رجسٹری کر اکر بھیجا گیاہے کہ تا تسلی ہو کہ پہنچ گیا ہے۔ایسا نہ ہو کہ آپ ایسے ہی آم بھیج دیںاورناحق اسراف ہو۔بجز اس قسم کے جس کو سرولی کہتے ہیں اور کوئی قسم روانہ نہ فرماویں اوروہ بھی اس شرط سے کہ آم سبز اور نیم خام ہوں۔تا کسی طرح ایسی شدت گرمی میں پہنچ سکیں۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ