مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 642
مکتوب نمبر ۲۷۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آم مرسلہ آنمکرم پہنچے۔جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء۔اگر ممکن ہو سکے تو اسی قدر اور آم بھیج دینا۔کیونکہ مہمان عزیز بہت ہیں۔بہت شرمندگی ہوتی ہے۔اگر کوئی چیز آوے اور بعض محروم رہیں۔افسوس کہ آپ کو عقیقہ پر رخصت نہ مل سکی۔خیر دوسرے موقعہ پر سہی۔مسمی عبدالحمید گرفتار ہو کر گورداسپور میں آگیاہے۔کہتے ہیں کہ پھر مقدمہ بنایا جاوے گا۔خدا تعالیٰ ہر ایک بہتان سے بچاوے۔مسل سے کسی قدر صفائی سے ظاہر ہے کہ پہلا اظہار عبدالحمید کا جھوٹا تھا۔جو پادریوں کی تحریک سے لکھا گیا ہے۔مگر پھر تفتیش ہو گی کہ کون سا اظہار جھوٹا ہے۔شاید اب پادریوں کو پھر کسی جعلسازی کاموقعہ ملے اور پھر اس کو طمع دے کر یہ بیان لکھو ادیں کہ پہلا اظہار ہی سچا ہے اور دوسرا جھوٹا۔کچھ معلوم نہیں کہ ایسا صاف مقدمہ فیصل شدہ پھر کیوں دائر کیا گیاہے۔سزا اگر عبدالحمید کو دینا ہے توپہلا حاکم دے سکتا تھا اورسزا دینے کے لئے بہت سی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔عبدالحمید خود اقرار لکھاتا ہے۔یعنی کپتان ڈگلس صاحب کے روبرو کا پہلا اظہار میرا جھوٹا ہے۔والسلام ۳۰؍ جون ۱۸۹۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ