مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 640
مکتوبات احمد ۶۴۰ مکتوب نمبر ۲۷۲ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ امید که اشتهار ۴ را اکتوبر ۱۸۹۹ ء جس کے ساتھ جلسہ الوداع کا بھی ایک پرچہ ہے ۔ آپ کے پاس پہنچ گیا ہو گا ۔ اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ اخویم مولوی محمد علی صاحب کی نسبت جو گورداسپور میں تحریک کی گئی تھی ۔ اس کو حد سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور در حقیقت اس طرح پر مولوی صاحب کا بڑا حرج ہو گیا ہے ۔ کہ اگر آخر کار لوگ کسی رشتہ سے انکار کریں تو کتنے اور عمدہ رشتے اسی انتظار میں ان کے ہاتھ سے چلے گئے ۔ یہ ایسا طریق ہے کہ خواہ مخواہ ایک شخص پر ظلم ہو جا تا ہے۔ جب اس انتظار میں دوسرے لوگ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے ۔ چنانچہ بعض ہاتھ سے چلے گئے ہیں ۔ تو کس قدر یہ امر باعث تکلیف ہے۔ لڑکی والے بعض اوقات دس روز بھی توقف ڈالنا نہیں چاہتے ۔ بلکہ توقف سے وہ لا پروائی سمجھتے ہیں ۔ اس لئے ناحق نقصان ہو جاتا ہے۔ مناسب ہے کہ آپ رجسٹری کرا کر ایک مفصل خط ان کو لکھ دیں کہ وہ ایک شریف اور مہذب ہیں ۔ آپ کے لئے انہوں نے دوسرے کئی رشتوں کو ہاتھ سے دیا ہے۔ سے دیا ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ اب آپ اپنے جواب باصواب سے جلد ان کو مسرور الوقت کریں اور پھر اگر وہ کسی ملازمت کے شغل میں لگ گئے تو فرصت نہیں ہو گی ۔ یہی دن ہیں کہ جن میں وہ اپنی شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر کسی پہلی شادی کا ذکر درمیان میں آوے تو آپ کہہ دیں کہ پہلی شادی تھی ۔ وہ رشتہ طلاق کے حکم میں ہے۔ اس سے وہ کچھ تع ہ کچھ تعلق نہیں رکھنا چاہتے اور شاید طلاق بھی دے دیا ہے ۔ غرض اس کا جواب آپ دوسری طرف سے بہت جلد لے کر جہاں تک جلد ممکن ہو سکے بھیج دیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ یہ توقف ان کی اس طرف کے لئے بہت حرج کا باعث نہ ہو جاوے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام