مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 640

مکتوب نمبر ۲۶۷ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میری گواہی کے لئے رانا جلال الدین خان صاحب عدالت میں طلب کئے گئے ہیںاور ۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء تاریخ پیشی مقرر ہے اور چونکہ محمد حسین نے صاف طور پر لکھوادیا ہے کہ ظن غالب ہے کہ لیکھرام کے قاتل یہی ہیں۔اس لئے لیکھرام کی مسل بھی طلب ہوئی ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ:۔اس خط پر تاریخ کوئی نہیں۔مگر تسلسل خط وکتابت سے واضح ہے کہ یہ ۱۶؍فروری ۱۸۹۹ء کے بعد کا ہے۔(عرفانی) مکتوب نمبر ۲۶۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء کو مقدمہ پیش ہوکر بغیر لینے گواہوں کے مجھے بری کیا گیا۔استغاثہ کی طرف سے گواہی گذر چکی تھی۔اور فریقین کے لئے دو نوٹس لکھے گئے اور ان پر دستخط کرائے گئے۔جن کا یہ مضمون تھا کہ نہ کسی کی موت کی پیشگوئی کریں گے اور نہ دجّال، کذّاب، کافر کہیں گے اور نہ قادیان کو چھوٹے کاف سے لکھیں گے اور نہ بٹالہ کو طاء کے ساتھ اور گالیاں نہیں دیں گے اور ہدایت کی گئی کہ یہ نوٹس عدالت کی طرف سے نہیں ہے اور نہ اس کو مجسٹریٹ کا حکم سمجھنا چاہیے۔صرف خدا کے سامنے اپنا اپنا اقرار سمجھو۔قانون کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔ہمارا کچھ دخل نہیں۔مجھے کہا گیا کہ آپ کو ان کی