مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 628
مکتوب نمبر ۲۵۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میری طبیعت علیل رہی ہے اور اب بھی علیل ہے۔اس لئے زیادہ تحریر کی طاقت نہیں رہی۔میں نے اس مہمان خانہ کے لئے ضرورت اشد کی وجہ سے ایک کنواں لگوانا شروع کیا تھا۔چند دوستوں کو چندہ کے لئے تکلیف بھی دی گئی۔مگر وہ چندہ ناکافی رہا۔ا ب کنوئیں کا کام شروع ہے۔مگر روپیہ کی صورت ندارد۔چاہتا ہوں اگر آپ دوماہ کا چندہ چالیس روپیہ بھیج دیں۔توشاید اس سے کچھ مدد مل سکے۔ابھی کام بہت ہے۔بلکہ عمارت بھی شروع نہیں ہوئی۔بوجہ ضعف کے زیادہ لکھ نہیں سکتا۔والسلام ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۲۵۵ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کی خدمات متواترہ سے مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر بخشے۔اس وقت بباعث قحط اور کثرت مہمانوں کے ضرورتیں ہیں۔اخراجات کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔اب آٹے کی قیمت کے لئے ضرورت ہے۔اس لئے مکلف ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو پھر آپ مبلغ چالیس روپیہ بطور پیشگی بھیج دیں کہ بہت ضرورت در پیش ہے اور مجھ کو اطلاع دیں کہ یہ روپیہ کس میعاد تک آپ