مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 617 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 617

مکتوب نمبر ۲۴۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مبلغ پچاس روپیہ مرسلہ آپ کے معہ ۵ شیشی عطر کے مجھ کو پہنچ گئے۔جزاکم اللّٰہ خیراً۔باقی سب طرح سے خیریت ہے۔تینوں رسالے چھپ رہے ہیں۔آپ کا ڈاک کا خط مجھ کو پہنچ گیا تھا۔والسلام خاکسار ۵؍ نومبر ۱۸۹۵ء غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۴۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔بات یہ ہے کہ خد اتعالیٰ کی وحی کئی قسم کی ہوتی ہے اور وحی میں ضروری نہیں ہوتا کہ الفاظ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔بلکہ بعض وحیوںمیں صرف نبی کے دل میں معانی ڈالے جاتے ہیں اور الفاظ نبی کے ہوتے ہیں اور تمام پہلی وحییں اسی طور کی ہوئی ہیں۔مگر قرآن کریم کے الفاظ اور معانی دونوں خد اتعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ پہلی وحیوں کے معانی بھی معجزہ کے حکم میں تھے۔مگر قرآن شریف معانی اور الفاظ دونوں کی رُو سے معجزہ ہے اور تورات میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ دونوں کی رُو سے خد ا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔تفصیل اس کی انشاء اللہ القدیر بروقت ملاقات سمجھا دوں گا۔نقل خط امام الدین بھیج دیں۔وہ نیم مرتد کی طرح ہے۔خاکسار غلام احمد نوٹ:۔اس خط پر تاریخ درج نہیں اور افسوس ہے کہ لفافہ محفوظ نہیں۔مگر سلسلہ مکتوبات ظاہر کرتا ہے کہ یہ نومبر ۱۸۹۵ء کا مکتوب ہے۔(عرفانی)