مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 613 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 613

مکتوب نمبر ۲۳۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کامحبت نامہ پہنچا۔میری دانست میں بغیر متواتر نماز استخارہ کے تبدیلی کے لئے پوری کوشش نہیں کرنی چاہئے۔میں سنتا ہوں کہ گورداسپورہ میں کام بہت ہے اور طرح طرح کے پیچیدہ مقدمات ہوتے ہیں۔اس صورت میں تعجب نہیں کہ کوئی دقت پیش آوے۔خدا تعالیٰ ہر ایک آفت سے محفوظ رکھے۔امید کہ اپنے حالات خیریت آیات سے مسرور الوقت فرماتے رہیں۔والسلام ۶؍ جنوری ۱۸۹۵ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۳۳ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس وقت باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ مہمانوں کی آمدورفت زیادہ ہے اور اس وقت روغن زرد کااس جگہ اس قدر قحط ہے کہ بازار میں کہیں روغن، نہ اچھا نہ بُرا، دستیاب نہیں ہوا اور آج لاچار سرسوں کاتیل ہنڈیا میں ڈال دیا گیا۔آپ ہمیشہ بیس روپیہ ماہوار چندہ ارسال کرتے ہیں۔بہتر ہو گا کہ آپ اس ماہ کی بابت بیس روپیہ کا عمدہ روغن زرد خرید کر کے ارسال فرما دیں۔مگر ریل میں روانہ کر کے بلٹی اس کی بھیج دیں تاجلدی پہنچ جاوے اور تبدیلی کے بارہ میں اوّل استخارہ کرنا چاہئے۔گورداسپور میں اکثر حاسد اور شریر طبع لوگ ہیں۔۹؍ جنوری ۱۸۹۵ء خاکسار غلام احمد