مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 50

مکتوبات احمد ۵۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۳۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دو روز سے میں نے شخص معلوم کیلئے توجہ کرنا شروع کیا تھا ۔ مگر افسوس کہ اس عرصہ میں میرے گھر کے لوگ یکد فعہ سخت علیل ہو گئے ۔ یعنی تیز تپ ہو گیا جس کی وجہ سے مجھے ان کی طرف توجہ کرنی پڑی ۔ کل ارادہ ہے کہ ان کو مسہل دوں ۔ بعد ان کی صحت کے پھر توجہ میں مصروف ہوں گا ۔ اب مجھے محض آپ کے لئے اس طرف بشدت خیال ہے ۔ اگر چہ مجھے صحت کامل نہیں تا ہم افاقہ میں آپ نے جو فتح محمد کے ہاتھ دوا بھیجی تھی وہی کھاتا رہا ہوں ۔ معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم ، کہ اس دوا نے کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ پیراں دتا کے ہاتھ کوئی دوا نہیں پہنچی اور پیراں دتا کہتا ہے کہ مجھے مولوی صاحب نے کوئی دوا نہیں دی ۔ یعنی اس عاجز کیلئے آپ نے جو کچھ لکھا تھا کہ پیراں دتا کے ہاتھ دوا بھیجی ہے، شاید یہ غلطی سے لکھا گیا ہو۔ میر عباس علی شاہ صاحب قادیان میں آپ کی دوا کے منتظر ہیں ۔ براہ مہربانی ضرور توجہ فرما کر دوا بھیج دیں ۔ آپ کو یہ عاجز دعا میں یاد رکھتا ہے اور امید وار اثر ہے گو کسی قدر دیر کے بعد ہو۔ انسان کے دل پر آزمائش کے طور پر کئی قسم کی حالتیں وارد ہوتی رہتی ہیں آخر خدا تعالیٰ سعید روح کی کمزوری کو دور کر دیتا ہے اور پاکیزگی اور نیکی کی قوت بطور موہبت عطا فرما دیتا ہے۔ پھر اس کی نظر میں وہ سب باتیں مکروہ ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہیں اور وہ سب راہیں پیاری ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری ہیں ۔ تب اس کو ایک ایسی طاقت ملتی ہے جس کے بعد ضعف نہیں ، اور ایک ایسا جوش عطا ہوتا ہے جس کے بعد کسل نہیں ، اور ایسی تقوی دی جاتی ہے جس کے بعد معصیت نہیں ۔ اور رب کریم ایسا راضی ہو جاتا ہے جس کے بعد سخط نہیں۔ مگر یہ نعمت دیر کے بعد عطا ہوتی ہے ۔ اوّل اوّل انسان اپنی کمزوریوں سے بہت سی ٹھوکریں کھاتا ہے اور اسفل کی طرف گرتا ہے ۔ مگر آخر اس کو صادق پا کر طاقت بالا کھینچ لیتی ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو الله جلشانہ فرماتا ہے ۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا !! الى یعنی نُثَبِّتُهُمْ عَلَى التَّقْوى ا العنكبوت: ۷۰