مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 540
مکتوبات احمد ولده جلد دوم پہلے اس کو اقرار کر لینا چاہئے کہ میری کتاب میں جن کو الہامی مانتا ہوں ، کسی استعارہ یا مجاز کو استعمال نہیں کیا گیا اور مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ کی شرط میں کوئی قباحت نہیں ۔ کیونکہ قیامت میں جو بہشتوں کے لئے نئی زمینیں اور آسمان بنائے جائیں گے وہ بھی دائمی ہوں گے ۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ ایک وقت مقررہ کے بعد وہ نہیں رہیں گے ۔ ماسوا اس کے آسمان اور زمین فوق و تحت کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ سو اس طور سے آیت کے یہ معنے ہوئے کہ جب تک جہات فوق وتحت موجود ہیں ۔ تب تک وہ بہشت میں رہیں گے اور ظاہر ہے کہ جہات ایسی چیزیں ہیں کہ قابل انعدام نہیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۱۲ مارچ ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۱۲۵ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته عنایت نامہ پہنچا اور اس کے ساتھ ایک اور خط پہنچا۔ جو ۲۷ / جنوری ۱۸۸۸ء کا لکھا ہوا تھا۔ تعجب کہ دو ماہ تک یہ خط کہاں رہا۔ مکلف ہوں کہ میں روپے روپیہ جو آپ بھیجنے کو کہتے ہیں ۔ وہ آپ جلد بھیج دیں کہ یہاں ضرورت ہے ۔ ہر چند دل میں خواہش ہے۔ مگر ابھی اس طرف ان کے آثار ظاہر نہیں ہوئے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ تک پہنچانا ہے تو آثار ظاہر ہو جائیں گے ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۲ را پریل ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار ا هود: ۱۰۸ غلام احمد از قادیان