مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 537
مکتوبات احمد ۵۳۷ جلد دوم ہے۔ راستبازوں نے اپنے پیارے بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں دیں۔ تا توحید کی حقیقت انہیں حاصل ہو۔ سو میں آپ کو خالصاً للہ نصیحت دیتا ہوں کہ آپ اس حزن و غم سے دستکش ہو جائیں اور اپنے محبوب حقیقی کی طرف رجوع کریں۔ تا وہ آپ کو برکت بخشے اور آفات سے محفوظ رکھے ۔ یکم مارچ ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار مکتوب نمبر ۱۲۲ ملفوف غلام احمد از قادیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ موجب خوشی ہوا ۔ اللہ جلشانہ آپ کو اس اخلاص اور محبت کا اجر بخشے اور آپ سے راضی ہو اور راضی کرے۔ آمین ثم آمین ۔ حال یہ ہے کہ یہ عاجز خود آرزو خواہاں ہے کہ ماہ رمضان آپ کے پاس بسر کرے ۔ لیکن نہایت دقت در پیش ہے کہ آج کل میرے دونو بچے ایسے ضعیف اور کمزور ہو رہے ہیں کہ ہفتہ میں ایک دو دفعہ بیمار ہو جاتے ہیں اور میرے گھر کے لوگ اس جگہ کچھ قرابت نہیں رکھتے اور ہمارے کنبہ والوں سے کوئی ان کا غمخوار اور انیس نہیں ہے۔ اس لئے اکیلا سفر کرنا نہایت دشوار ہے ۔ میں نے تجویز کی تھی کہ ان کو انبالہ چھاؤنی میں ان کے والدین کے پاس چھوڑ آؤں ۔ مگر ان کے والدین نے اس بات کو چند وجوہ کے سبب سے تاخیر میں ڈال دیا۔اب مجھے ایک طرف یہ شوق بھی نہایت درجہ ہے کہ ایک دو ماہ تک ایام گرمی میں آپ کے پاس رہوں اور اسی جگہ رمضان کے دن بسر کروں اور ایک طرف یہ موانع در پیش ہیں اور معہ عیال پہاڑ کا سفر کرنا مشکل اور صرف کثیر پر موقوف ہے۔ مستورات کا پہاڑ پر بغیر ڈولی کے جانا مشکل اور ان کے ہمراہی الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۳