مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 531
مکتوب نمبر ۱۰۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خادمہ پہنچ گئی۔اب تک کسی کام میں مصروف نہیں ہوئی۔سست اور کاہل الوجود بہت ہے۔اس کے آنے سے تکلیف اسی طرح باقی ہے۔جوپہلے تھی۔لیکن آزمائش کے طور پر ایک دو ماہ کے لئے اس کو رکھ لیا گیا ہے کہ دور سے آئی ہے۔اس وقت ضروری کام کے لئے اطلاع دیتا ہوں کہ اب ایک مہتمم مطبع بٹالہ سے باہم اقرار کاغذ اسٹامپ پر ہو کر ہر دو رسالہ کے چھاپنے کے لئے تجویز کی گئی ہے اور سنا جاتا ہے کہ دہلی میں بہ نسبت لاہور کاغذ ارزاں ملتا ہے۔اس لئے امید رکھتا ہوں کہ آپ اگر ممکن ہو بہت جلد بندوبست دو آدمی کے پاس کاکر کے مجھ کو اطلاع بخشیں۔تامیں میاں فتح خاں اور ایک اور آدمی کو دہلی کی طرف روانہ کروں اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں بلاتوقف اپنے دونوں آدمی امرتسر میں بھیج دوں اور پتہ ان کا یہ ہو گا کہ وہ کٹڑہ مہیاں سنگھ میں مکان مولوی حکیم محمد شریف صاحب پر ٹھہریں گے۔بہرحال آپ کا جواب بواپسی ڈاک آنا چاہئے کہ اب بعد معاہدہ تحریری زیادہ توقف نہیں ہو سکتی۔اگر دو آدمی کا پاس مل جانا ممکن ہو تو بہتر ہے کہ اس سے کفایت رہے گی اور اگر ناممکن ہو،تا ہم اطلاع بخشیں۔جواب بہت جلد آنا چاہئے۔خاکسار ۱۵؍ نومبر ۱۸۸۷ء غلام احمداز قادیان نوٹ: بٹالہ میں شعلہ طور نامی ایک مطبع تھا۔اس کی طرف یہ اشارہ ہے۔(عرفانی)