مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 530
مکتوبات احمد ۵۳۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۱۴ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ یہ عاجز دعا کرتا ہے کہ آپ کی ترقی اسی ضلع میں ہو ۔ آیندہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں مصالح ہیں ۔ میرالڑ کا شدت سے بیمار تھا بلکہ بظاہر علامات بہت ردی تھیں ۔ امید زندگی کی نہیں تھی ۔ اب بفضلہ تعالیٰ وہ سیلاب بیماری کا رُو بہ کمی ہے۔ لڑکے نے آنکھیں کھول لی ہیں اور دودھ پیتا ہے۔ ہنوز عوارض باقی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ بھی دفع ہو جائیں گے ۔ دو آنے کے پان ضرور بھیج دیں۔ والسلام ۱۸ دسمبر ۱۸۸۷ء مکتوب نمبر ۱۱۵ ملفوف خاکسار غلام احمد از قادیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صا اصاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ سے جہاں تک ممکن ہو آپ اس طرف ہو کر جائیں ۔ ۲۶ دسمبر کو آپ کی انتظار رہے گی ۔ پان مرسلہ آپ کے نہیں پہنچے ۔ سو یہ پہنچانے والے پہنچانے والوں کی غفلت یا خیا نہ غفلت یا خیانت ہے ۔ آپ ایک آنے کے پان ضرور لیتے آویں ۔ لڑکا اب اچھا ہے کسی ۔ اقد قدر ر کھانسی باقی ہے ہے ایک نہایت ضروری کام ہے ۔ جس دنیا و آخرت میں برکات کی امید کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بشیر احمد کے لئے ایک ایسی دودھ پلانے والی عورت کی ضرورت ہے۔ جس کو بچہ ہونے پر برس سے زیادہ نہ گزرا ہوا اور خوب طاقتور عورت ہو اور بچہ مر جانے کی اس کو بیماری بھی نہ ہو۔ اور اس کے بچہ تازہ اور فربہ ہوتے ہوں ۔ دبلے و د بلی و خشک نہ رہتے ہوں ۔ ایسی عورت تلاش کر کے آپ بھیج دیں یا ساتھ لاویں ۔ تنخواہ جو مقرر ہو دی جائے گی ۔ اگر کوئی ایسی بیوہ عورت ہو۔ تو نہایت عمدہ ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۲۱ دسمبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان