مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 528
لیا تو دونوں مل کر دہلی جائیںگے اور اگر قبول نہ کیا تو پھر نا چاری کی بات ہے۔اطلاعاً لکھا گیا ہے۔والسلام ۱۶؍ اکتوبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان اور یہ بھی تحریر فرماویں کہ آپ کا اس طرف آنے کا کب تک ارادہ ہے۔اگر سندر داس آگیا ہو تو ایک دن کے لئے اس کو ساتھ لے آویں۔ضرور اطلاع بخشیں۔مکتوب نمبر ۱۰۴ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔انسان کے اختیار میں کچھ نہیں جو کچھ خدا تعالیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔مصمّم ارادہ تھا کہ ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۷ء کو روانگی دہلی کے لئے امرتسر آدمی پہنچ جائے۔اوّل میاں نور احمد کی حالت کچھ بدل گئی۔میاں عبداللہ سنوری بیمار ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔میاں فتح خاں کچھ نیم علیل سا ہوگیا اور ان کا بھائی بعارضہ تپ بیمار ہوگیا وہ اس کو چھوڑ کر کسی طرح جانہیں سکتا۔اس لئے مجبوراً لکھا جاتا ہے کہ آپ لکھ دیں کہ دس روز کے بعد جانے کی تجویز کی جائے گی اور اوّل اطلاع کریں گے۔والسلام ۱۸؍اکتوبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد