مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 527
مسلمان بھی لڑکے کی موت چاہتے ہیں اور علانیہ کہتے ہیں کہ لڑکا مر جائے تو پھر یہ جھوٹے ہو جائیںگے۔جابجا یہی ذکر سنتا ہوں کہ اس جگہ کے تمام ہندو اور اکثر مسلمان شریر طبع بلکہ قریب کل کے مسلمان لڑکے کی موت چاہتے ہیں اور جابجا علانیہ باتیں کرتے ہیں۔تعجب نہیں کہ زہر دینے کی تجویز میں ہوں۔اس لئے لڑکے کی خادمہ جس قدر نیک بخت اور خدا ترس ہو، چاہئے۔آپ سمجھ سکتے ہیں۔زیادہ کیا لکھا جاوے۔والسلام مکتوب نمبر ۱۰۲ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دو آنے کے پان پہنچ گئے۔مگر روغن زرد آٹھ ثار خام جو آپ نے لکھا تھا وہ نہیں پہنچا۔پہلی دفعہ بھی اکیس ثار خام روغن گم ہو گیا۔اب بھی گم ہوا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اب آئندہ روغن بھیجنا بالکل فضول ہے۔معلوم نہیں کہ یہ انتیس ثارروغن کس نے راہ میں لے لیا۔اب آئندہ ارسال نہ فرماویں۔دو چار روز تک دو آدمی خریداری کاغذ کے لئے انشاء اللہ دہلی میں جائیںگے۔اگر ممکن ہو تو بندوبست پاس کر رکھیں۔والسلام ۴؍ اکتوبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ۱۰۳ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعدا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میاں نور احمد کے دہلی میں جانے کے آثارکچھ معلوم نہیں ہوتے۔بہرحال میں ۱۸؍ تاریخ یا ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۸۷ء کو میاں فتح خاں کو امرتسر میں بھیجوں گا۔اگر میاں نور احمد نے امرتسر جانا قبول کر