مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 526

مکتوب نمبر ۱۰۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ چونکہ بلاخادمہ نہایت تکلیف ہے۔برائے مہربانی جس طرح ہو سکے خادمہ کو روانہ فرماویں۔سارا پتہ سمجھا دیں۔دو آنے کے پان ساتھ لیتی آوے مگر اس کے پہنچنے میں اب توقف نہ ہو۔میاں عبداللہ سنوری معلوم نہیں کب آئیںگے، ان کاانتظار کرنا عبث ہے۔روغن زرد اب تک نہیں پہنچا۔معلوم ہوتا ہے کسی جگہ رہ گیا ہے۔یہ روغن محض قرضہ کے طور پر آپ سے منگوایا ہے۔محض اس ضرورت سے کہ اس جگہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔آپ روغن وغیرہ کا حساب لکھ کر بھیج دیں تامیں آپ کی خدمت میں قیمت روانہ کر دوں۔مجھے پان کی بابت بھی نہایت دقت و تکلیف رہتی ہے۔اگر آپ انتظام کر سکیں تو میں پان کے لئے بھی کسی قدر اکٹھی قیمت بھیج دوں۔امرتسر آنے جانے میں دس گیارہ آنہ خرچ ہوتے ہیں اور بٹالہ میں پان نہیں ملتا۔اب برسات گزر گئی اور کاغذ خریدنے کے لئے عبداللہ و نور احمد کو بھیجا جاوے گا۔کیا اب دو آدمی کے پاس کا بندوبست ہو سکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو کوشش کریں ورنہ کرایہ دے کر روانہ کیا جاوے گا زیادہ خیریت۔والسلام۔تنخواہ دو روپیہ ماہواری خادمہ کی منظور ہے۔مگر محنت کشی اور دیانتداری شرط ہے۔کئی عورتیںاس جگہ دن رات بلا تنخواہ کام کرتی ہیںمگر چونکہ نہ محنت کش ہیں نہ دیانتدار۔اس لئے ان کاہونا نہ ہونا برابر ہے۔کام نہایت محنت اور جان کا ہی اور ہوشیاری کا ہے۔آپ اس خادمہ کو بخوبی سمجھا دیں تا پیچھے سے کوئی مخفی بات ظہور میں نہ آوے۔والسلام ۲۶؍ ستمبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد یہ بات مکرر لکھنے کے لائق ہے کہ خادمہ نہایت درجہ کی دیانتدار اور شریف اور نیک نیت اور نیک بخت اورمتقی چاہئے۔کیونکہ لڑکا اس کے سپرد کیا جاوے گا اور اس جگہ تمام مخالف ہندو اور اکثر مسلمان بھی