مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 522
مکتوبات احمد ۵۲۲ مکتوب نمبر ۱۰۱ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ چونکہ بلا خادمہ نہایت تکلیف ہے۔ برائے مہربانی جس طرح ہو سکے خادمہ کو روانہ فرماویں۔ سارا پتہ سمجھا دیں۔ دو آنے کے پان ساتھ لیتی آوے مگر اس کے پہنچنے میں اب توقف نہ ہو۔ میاں عبد اللہ سنوری معلوم نہیں کب آئیں گے ، ان کا انتظار کرنا عبث ہے۔ روغن زرداب تک نہیں پہنچا۔ معلوم ہوتا ہے کسی جگہ رہ گیا ہے ۔ یہ روغن محض قرضہ کے طور پر آپ سے منگوایا ہے۔ محض اس ضرورت سے کہ اس جگہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔ آپ روغن وغیرہ کا حساب لکھ کر بھیج دیں تا میں آپ کی خدمت میں قیمت روانہ کر دوں ۔ مجھے پان کی بابت بھی نہایت دقت و تکلیف رہتی ہے۔ اگر آپ انتظام کر سکیں تو میں پان کے لئے بھی کسی قدر ا کٹھی قیمت بھیج دوں ۔ امرتسر آنے جانے میں دس گیارہ آنہ خرچ ہوتے ہیں اور بٹالہ میں پان نہیں ملتا ۔ اب برسات گزرگئی اور کاغذ خریدنے کے لئے عبداللہ ونوراحمد کو بھیجا جاوے گا ۔ کیا اب دو آدمی کے پاس کا بندو بست ہو سکتا ہے؟ اگر ہو سکتا ۔ ہے تو کوشش کریں ورنہ کرایہ دے کر روانہ کیا جاوے گا زیادہ خیریت ۔ والسلام ۔ تنخواہ دور و پیہ ماہواری خادمہ کی منظور ہے ۔ مگر محنت کشی اور دیانتداری شرط ہے۔ کئی عورتیں اس جگہ دن رات بلا تنخواہ کام کرتی ہیں مگر چونکہ نہ محنت کش ہیں نہ دیانتدار ۔ اس لئے ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے ۔ کام نہایت محنت اور جان کا ہی اور ہوشیاری کا ہے ۔ آپ اس خادمہ کو بخوبی سمجھا دیں تا پیچھے سے کوئی مخفی بات ظہور میں نہ آوے۔ ۲۶ ستمبر ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار غلام احمد یہ بات مکرر لکھنے کے لائق ہے کہ خادمہ نہایت درجہ کی دیانتدار اور شریف اور نیک نیت اور نیک بخت اور متقی چاہئے ۔ کیونکہ لڑکا اس کے سپرد کیا جاوے گا اور اس جگہ تمام مخالف ہندو اور اکثر مسلمان بھی