مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 497

مکتوبات احمد ۴۹۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۷ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ دعا کی گئی ۔ مجھ کو بباعث علالت طبیعت خود کم فرصتی بھی ہے ۔ اب میں آپ سے ایک ضروری امر میں مشورہ لینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بوجہ چند در چند وجہوں کے دوسری جگہ کتابوں کے طبع کرانے سے میری طبیعت دق آ گئی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اپنا مطبع تیار کر کے کام سراج منیر و دیگر رسائل کا شروع کرا دوں ۔ اگر مطبع میں کچھ خسارہ بھی ہوگا تو ان خساروں کی نسبت کم ہوگا جو مجھے دوسرے لوگوں کے مطابع سے اٹھانے پڑتے ہیں ۔ لیکن تخمینہ کیا گیا وغیرہ بھی ہے کہ اس کام کے شروع کرانے میں تیرہ چودہ سو روپیہ خر برہ چودہ سو روپیہ خرچ آئے گا ۔ جس میں خرید پریس وغیرہ داخل ہے اور آپ نے اقرار کیا تھا کہ ہم تین ماہ کے عرصہ کے لئے دوسور و پیہ بطور قرضہ دے سکتے ہیں ۔ سو اگر آپ سے یہ ہو سکے اور آپ کسی طور سے یہ بندو بست کر سکیں کہ چارسور و پیہ بطور قرضہ چھ ماہ کے لئے تجویز کر کے مجھ کو اطلاع دیں تو میں جانتا ہوں کہ اس میں آپ کو بہت ثواب ہوگا ۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو چھ ماہ کے اندر ہی یہ قرضہ ادا کرادے لیکن چھ ماہ کے بعد بہر حال بلا توقف آپ کو دیا جائے گا۔ اور باقی آٹھ نو سور و پیہ کسی اور جگہ سے قرضہ لیا جائے گا اس کا جواب آپ بہت جلد بھیج دیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ نے یہ خیر مقدر کی ہو ۔ اگر میں سمجھتا کہ آپ ادھر اُدھر سے لے کر کچھ اور زیادہ بندو بست کر سکتے ہیں تو میں آٹھ سو روپیہ کے لئے آپ کو لکھتا مگر مجھے خیال ہے کہ گو آپ اپنے نفس سے اللہ رسول کی راہ میں فدا ہیں ۔ مگر آجکل دوسرے مسلمان ایسے ضعیف ہو رہے ہیں کہ اگر ان کے پاس قرضہ کا بھی نام لیا جاوے تو ساتھ ہی ان کی طبع میں قبض شروع ہو جاتا ہے۔ جواب سے جلد تر اطلاع بخشیں۔ شیخ مہر علی صاحب کے مقدمہ کی نسبت اگر کچھ