مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 482

مکتوبات احمد ۴۸۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۵ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنائت نامه نامه پہنچا یه عاجز ۲۵ رنو عاجز ۲۵ نومبر ۱۸۸۶ء سے قادیان قادیان پہنچ گیا ہے۔ آپ برائے مہربانی اس روپیہ میں سے ایک سو پچاس روپے بابو الہی بخش صاحب کے نام لاہور پہنچا دیں کہ وہ رسالہ کے لئے بابو صاحب کے پاس جمع ہو گا اور باقی روپیہ اس جگہ ارسال فرما دیں اور ہمیشہ خیر و عافیت سے مطلع فرماتے رہیں ۔ چوہدری محمد بخش صاحب کو سلام مسنون پہنچے۔ والسلام یکم دسمبر ۱۸۸۶ء مکتوب نمبر ۴۶ ملفوف خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکر می نشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ شیخ مہر علی صاحب کی نسبت میں نے بہت دعائیں کی ہیں اور بہر حال کلی طور پر امید رحمت الہی ہے۔ اور بہت چاہا کہ صفائی سے ان کی نسبت منکشف ہو مگر کچھ مکروہات اور کچھ آثار خیر نظر آئے ۔ اگر اس کی تعبیر اسی قدر ہو کہ مکروہات اور شدائد جس قدر بھگت چکے ہوں ان کی طرف اشارہ ہو۔ انجام بخیر کی بہت کچھ امید ہے۔ اور دعا ئیں بھی از حد ہو چکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے ۔ آمین ثم آمین ۔ اور جو آپ نے نیت کی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو چار ماہ کے لئے بطور قرضہ سو یا دو سو روپیہ دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیت کا اجر بخشے ۔ اگر کسی وقت ایسی ضرورت پیش آئے گی تو آپ کو اطلاع دوں گا اور خود اس عاجز کا ارادہ ہے کہ جو امور ہندوؤں کے وید سے بطور مقابلہ طلب کئے گئے ہیں ۔ وہ بطور حق براہین ہیں ۔ ابلاغ پائیں ۔ اور اللہ جل شانہ ۔