مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 39

مکتوب نمبر ۲۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج عنایت نامہ پہنچ کر موجب خوشی و اطمینان ہوا۔جزاکم اللہ خیراً۔اس عاجر نے بموجب تحریرثانی، جو مولوی کریم بخش صاحب کے خط کے لفافہ پر تھی، بلاتوقف کتابیں بھیج دیں تھیں لیکن رجسٹری نہیں کرائی گئی تھی۔اگر اب تک نہ پہنچی ہوں تو مکرر بھیج دی جائیں۔میں نے مطبع کے بندوبست کیلئے بہت سی فکر کے بعد یہ قرین مصلحت سمجھا کہ بعض دوستوں سے بطور قرضہ کچھ لیا جائے۔جس میں سے کچھ پریس اور پتھروں کی قیمت پر خرچ آوے اور کسی قدر کاغذ خریدا جائے اور کچھ اُجرت وغیرہ کیلئے جمع رکھا جائے۔تو ایسے بااخلاق آدمیوں کے انتخاب کیلئے جب فہرست خریداران پر نظر ڈالی گئی تو ہزار آدمی میں سے صرف چھ آدمی پر نظر پڑی جن میں سے بعض قوی الاخلاق ہیں اور بعض کا حال کماحقہٗ معلوم نہیں۔ناچار دردِ دل سے یہ دعا کرنی پڑی۔رَبِّ اعْطِنِیْ مِنْ لَّدُنْکَ اَنْصَارًا فِیْ دِیْـنِکَ وَاذْہَبْ عَنِّیْ حُزْنِی وَاصْلِحْ لِیْ شَانِیْ کُلِّہٖ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اَنْتَ۔امید ہے کہ قرین بَاجابت ہو۔اب میں آپ کی خدمت میں مفصل ظاہر کرتا ہوں کہ میرا ارادہ تھا کہ چودہ آدمی منتخب کر کے سَو سَو روپیہ بطور قرضہ بوعدہ میعاد ایک سال بعد طبع سراج منیر اُن سے لیا جاوے۔یعنی ابتدا میعاد کی اس تاریخ سے ہو جب چھپ چکے۔کیونکہ طبع سراج منیر کیلئے چودہ سَو روپیہ تخمینہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ صورت انجام پذیر ہو سکے۔تو کسی ذی مقدرت دوست پر بوجھ نہیں ہوتا لیکن افسوس کہ فہرست خریداران کے دیکھنے سے صرف چھ آدمی ایسے خیال میں آئے جو اس کام کے لئے انشراح دل سے متوجہ ہو سکتے ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ یہ کام بہرحال رمضان شریف میں شروع ہو جائے اور میں یہ روپیہ لینا صرف قرضہ کے طور پر چاہتا ہوں کہ دوستوں پر تھوڑا تھوڑا بار ہو جو سَو روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔سو اگر ایسا ہو سکے کہ بعض بااخلاص آدمی جو آپ کی نظر میں ہوں اس قرضہ کے دینے میں شریک ہو جائیں تو بہت آسانی کی بات ہے ورنہ مالک