مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 441
مکتوبات احمد ۴۴۱ جلد دوم کی طرح شمار کرے ۔ تمام مدار کثرت علوم غیب اور استجابت دعا اور باہمی محبت و وفا اور قبولیت اور محبوبیت پر ہے ورنہ کثرت قلت کا فرق درمیان سے اُٹھا کر ایک کرم شب تاب کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سورج کے برابر ہے۔ کیونکہ روشنی اس میں بھی ہے۔ دنیا کی جتنی چیزیں ہیں وہ کسی قدر آپس میں مشابہت ضرور رکھتی ہیں۔ بعض سفید پتھر تبکے پہاڑوں سے ملتے ہیں اور غزنی کے حدود کی طرف سے بھی لاتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے بھی ایسے پتھر دیکھے ہیں ۔ وہ ہیرے سے سخت مشابہت رکھتے اور اسی طرح چمکتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ ایک شخص کا بل کی طرف کا رہنے والا چند ٹکڑے پتھر کے قادیان میں لایا اور ظاہر کیا کہ وہ ہیرے کے ٹکڑے ہیں کیونکہ وہ پتھر بہت چمکیلے اور آبدار تھے اور ان دنوں میں مدراس سے ایک دوست جو نہایت درجہ اخلاص رکھتے ہیں یعنی اخویم سیٹھ عبد الرحمن صاحب تاجر مدراس قادیان میں میرے پاس تھے ، ان کو وہ پسند آگئے اور ان کی قیمت میں پانسور و پیہ دینے کو تیار ہو گئے اور پچیس روپیہ یا کچھ کم و بیش ان کو دے بھی دیئے اور پھر اتفاقاً مجھ سے مشورہ طلب کیا کہ میں نے یہ سودا کیا ہے ۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اگر چہ ان ہیروں کی اصلیت اور شناخت سے نا واقف تھا۔ لیکن روحانی ہیرے جو دنیا میں کمیاب ہوتے ہیں یعنی پاک حالت کے اہل اللہ ، جن کے نام پر کئی جھوٹے پتھر یعنی مزوّر لوگ اپنی چمک دمک دکھلا کر لوگوں کو تباہ کرتے ہیں ۔ اس جو ہر شناسی میں مجھے دخل تھا اس لئے میں نے اس ہنر کو اس جگہ برتا اور اس دوست کو کہا کہ جو کچھ آپ نے دیا وہ تو واپس لینا مشکل ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ قبل دینے پانسو روپیہ کے کسی اچھے جو ہری کو یہ پتھر دکھلا لیں ۔ اگر در حقیقت ہیرے ہوئے تو یہ روپیہ دے دیں ۔ چنانچہ وہ پتھر مدراس میں ایک جوہری کے شناخت کرنے کے لئے بھیجے گئے اور دریافت کیا گیا کہ ان کی قیمت کیا ہے۔ پھر شاید دو ہفتہ کے اندر ہی وہاں سے جواب آگیا کہ ان کی قیمت ہے چند پیسے ۔ یعنی یہ پتھر ہیں۔ ہیرے نہیں ہیں ۔ غرض جس طرح اس ظاہری دنیا میں ایک ادنی کو کسی جزئی امر میں اعلیٰ سے مشابہت ہوتی ہے ۔ ایسا ہی روحانی امور میں بھی ہو جایا کرتا ہے اور روحانی جو ہری ہوں یا ظاہری جو ہری ، وہ جھوٹے پتھروں کو اس طرح پر شناخت کر لیتے ہیں کہ جو سچے جواہرات کی بہت سی صفات ہیں ان کی رُو سے ان پتھروں کا امتحان کرتے ہیں ۔ آخر جھوٹ کھل جاتا ہے اور سیچ ظاہر ہو جاتا ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ۔ روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۱۶۸ تا ۱۷۰)