مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 441
حالت تھی کہ ذوق اورمحبت سے بھر گیا تھا اورعجیب و غریب لذت اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔غرض ہم قادیان پہنچے اور مولانا مولوی نورالدین صاحب کے مدرسہ اور مطب کے پاس یکے کھڑے ہوگئے اورہم دونوں اُتر پڑے غروب آفتاب کا وقت تھا۔مولوی حسن علی صاحب نے مولوی نورالدین صاحب سے مجھے تعارف کرایا اورمیں ان سے مصافحہ کرکے پاس بیٹھ گیا۔اتنے میں کسی نے آکر خبر دی کہ وہ نیا مکان جو تیار ہوا ہے اس میں ان مسافروں کااسباب بھیج دو۔مولوی حسن علی صاحب اسباب کے ہمراہ اس مکان کوتشریف لے گئے اورمیں نماز عصر پڑھ کر مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے آکر خبر دی کہ حضرت اس نئے مکان میں آکر تشریف فرما ہوئے ہیں۔تو میں یہاں سے اُٹھا اور جلد اس مکان میں داخل ہوا اور میری نظر حضور کے چہرہ مبارک پر پڑی۔میں حلفاًگزارش کرتا ہوں کہ حضو رکا سراپا اس وقت ایک نور مجسم مجھے نظر آیا ا ور میں آنکھ بند کر کے حضور کی دست بوسی کرنے لگا اورجوش محبت کے ساتھ میری آنکھوںسے آنسو نکل پڑے۔اورحضور اس کے بعد کمال مہربانی اور شفقت سے احوال پُرسی فرماتے رہے اورمیرا حال یہ تھا کہ اندر ہی اندر مولو ی حسن علی صاحب کو ملامت کرتا تھا کہ انہو ںنے حضور کی ظاہری وجاہت کیا بتلائی تھی اور یہاں کیا کچھ نظر آرہا ہے اور منتظر تھا کہ حضور یہا ںسے تشریف لے جائیں تو ان کی خبر پورے طور سے لوں۔یہ میر اخیال ہو چکا اور حضور اقدس و اشرف بھی اسی وقت اندر تشریف لے گئے اورجونہی میں مولوی حسن علی صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔انہوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اورفرمایا کہ خدا کی قسم یہ وہ مرزا نہیں جن کو کچھ برس پہلے میں نے دیکھا تھا یہ تو کوئی اورہی وجو د نظر آرہا ہے۔غرض کہ ظاہری وجاہت میں بھی حضور کی بہت کچھ ترقی انہوں نے بیان فرمائی اور اسی وقت کہہ دیا کہ بے شک اب یہ وہی نظر آرہے ہیں جس کا ان کو دعویٰ ہے اور مجھے کہا کہ بے شک تم بیعت کر لو۔چونکہ میں نے اپنی بھی ان سے غرض بتائی تھی کہ فقط اس لئے آپ کو ساتھ لیتا ہوں کہ موقع پر آپ مجھے نیک اور میرے مناسب مشورہ دیں۔پس اسی طرح انہوں نے مجھے فی الفور کہہ دیا اور میری اندرونی حالت یہ تھی کہ اگر ایک نہیں ہزار دفعہ بھی اس کے خلاف اگر وہ مشورہ دیتے تو میں حلقہ بگوش ہوئے بغیر اس مبارک آستانہ سے جدا نہ ہوتا۔مگر الحمدللہ کہ فی الفور مولوی صاحب نے مجھے میری دلی آرزو کے مطابق کہہ دیا۔لیکن ان کا خاص ارادہ بالکل اس امر پر نہ تھا۔ان کے لئے سب ہمارے مدراسی بھائیو ں کی یہ