مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 440

آپ کا اور ہمارا ساتھ ہے آپ نماز کی پابندی ملحوظ خاطر رکھیں۔بس یہی پہلی شرط ہے جس کو میں نے شکرئیے کے ساتھ قبول کیا۔دوسرے روز علی گڑھ روانہ ہوگئے اور وہاں کے حالات پر غور کیا گیا تو یہ ایک دوسری دلیل ضرورت امام کے لئے ہاتھ آگئی یعنی دو نمونے دیکھے۔ایک تو اسٹریچی ہال جس میں یورپین انداز وضع کا نقشہ تھا جو زبان حال سے کہہ رہا تھا کہ جو یہاں داخل ہوگا وہ ضرور ایک نہ ایک دن یورپین انداز کا جنٹلمین ہوجائے گا اور دوسرا نمونہ مسجد کا دیکھا جس کی ظاہری صورت یہ تھی کہ ایک دو پھٹے پُرانے بوریئے اور دو چار ٹوٹے پھوٹے لوٹے۔گویا زبان حال (سے) اس کا یہ مضمون ادا ہورہا تھا کہ جو میری طرف رکوع و سجود کے لئے مائل ہوگا اس کی بساط پھٹے بورئیے اور پھوٹے ہوئے لوٹے کے سوا آگے وہی یعنی اللہ اللہ خیر صلّا۔غرض یہ دونوں نظارے بھی ایک عبرت لینے کے باعث میرے لئے ہوئے۔پھر وہاں سے سیدھا قادیان شریف کا ارادہ ہوا۔ہمارے مولوی صاحب نے بہت کچھ فال قرآن میں دیکھے اور استخارے بھی کئے۔غرض ہر ایک پہلو پر بھی ان کو جواب ملا کہ چلے چلئیے۔غرض روانہ تو ہوگئے مگر مولوی صاحب کا شروع سے اخیر تک یہی بیان رہا کہ مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں مگر ان کا یہ دعویٰ ان کی ظاہری وجاہت سے بہت کچھ بڑھا ہوا ہے۔میں اس کے جواب میں کہتا تھا کہ اب جو کچھ ہے وہاں پہنچ کر ہی ہوگا۔جب امرتسر پہنچے تو وہاں مولوی محمد حسین صاحب کا کوئی چیلا ہم کو مل گیا اوراس نے مولوی صاحب کو بہت کچھ روکا اور بابو محکم الدین صاحب کی کوٹھی تک ہمار اپیچھا نہ چھوڑا اور بلائے بد کی طرح لگا رہا اور وہاں پہنچ کر بھی مولوی صاحب تو ان کونرم نرم جواب دیتے رہے اور وہ زیادہ گستاخ ہوتا چلا۔یہاں تک کہ آخر مولوی صاحب نے میرے پر حوالہ دے کر اپنی جان چھڑائی۔جب وہ میری طرف ہوا تو میری دو ہی جھڑکیوں سے گھبرا گیا اور پھر بیٹھ نہ سکا یعنی دفعہ ہو گیا۔غرض شب ہم نے وہاں گزاری اورصبح کو بٹالہ کی راہ لی اور جب وہا ںپہنچے تو وہاں بھی ایک سدِراہ ہو امگر زیادہ جرأت نہ کر سکا اور ہم وہاں سے یکوں میں بیٹھ کر روانہ ہوئے اور جوں جوں دارالامان سے نزدیک ہوتے گئے ویسے ہی دل پرایک نیک اثر ہوتا گیا۔یہاں تک کہ دارالامان کا نظارہ نظر آنے لگا اور جامع مسجد مجھے تو ایک بقعۂ نور نظر آتی تھی۔اس سال بارش کثرت سے ہوئی تھی اس لئے پہنچنے میں دیر ہوئی۔جب یہاں پہنچے تو میری اپنی یہ