مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 435

مکتوبات احمد ۴۳۵ جلد دوم که مولوی حسن علی صاحب تشریف لاویں گے اور مجھ سے بدر جہا افضل بھی ہیں جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا اور پایا اس کو وہ خوب ادا کریں گے اور بعد جلسہ برخاست ہو گیا ۔ اس کے بعد مخالفت کی آگ بہت تیز ہو گئی ۔ یہاں اب اسی سے غرض نہیں مگر یہ ظاہر کرنا ضروری تھا کہ قبل از بیعت میری حالت کیا ہوئی اور ضرورت امام کس حد تک محسوس ہونے لگی اور پھر حضرت امام کی صداقت پر زمینی اور آسمانی نشان کیا کیا ظاہر ہوئے جن پر توجہ نہ کرنے سے کیا نتائج پیدا ہو رہے ہیں ۔ غرض ان باتوں کا مختصر طور پر ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سب سے اوّل اس امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر جو تبدیلی ہوئی اس کو مختصر الفاظ میں لکھ دینا کافی ہے۔ ابتدائی عمر کے زمانہ کے بعد زمانہ اوسط اور اس کے بعد لگا تار (تا) زمانہ بیعت جو کچھ اپنی عملی حالت میں نے بتائی ہے اس کا ازالہ ہوتا چلا اور کوئی ہیں اور پچیس برس کی ناگفتنی علتیں اور عادتیں جو اپنے اندر تھیں اور جن کی بابت کبھی کبھی خیال کر کے میں رو دیا کرتا تھا کہ اے رب ! ان برائیوں سے نجات کس طرح ہوگی ، اور مجھے یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا اور فی الحقیقت اگر میں ہزار کوشش کر کے بھی جان چھڑاتا تو پھر یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ میری صحت وغیرہ میں کچھ فتور پیدا نہ ہوتا۔ مگر حلفاً لکھتا ہوں کہ بعد بیعت وہ سب باتیں یکے بعد دیگرے ایسی دور ہوگئیں جیسے لاحول سے شیطان بھاگتا ہے اور مجھے تکلیف بھی محسوس نہیں ہوئی اور صحت کا یہ حال ہو گیا کہ گویا ان ارتکابوں کے وقت میں بیمار تھا اور ان کے ترک کے بعد تندرست ہو گیا اور یہ صرف حضرت حجت الله امام حمام علیہ الصلوۃ والسلام کے انفاس طیبات کے طفیل نصیب ہوا اور اب اپنے اندر وہ باتیں دیکھتا ہوں کہ بے اختیار ہو کر رب کریم و رحیم کا شکر کرتا ہوں اور ابتدائی زمانہ کو بھی اس کے مقابلہ میں بیچ سمجھتا ہوں ۔ فـالــحــمــد لله على ذلک۔ اگر چہ میں اب تک اپنے آپ کو گندہ بشر سمجھتا ہوں اور اپنے اندر بہت سے عیوب محسوس کرتا ہوں مگر اس مولا کریم کی جناب میں قوی امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے حبیب کی جوتیوں کے صدقے میری مغفرت کر دے گا ۔ اب دوسری بات یہ کہ ضرورت امام کس حد تک محسوس ہونے لگی ۔سواس کے بارے میں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے کہ اگر چہ اس کا وجود باجود کوئی ہمیں برس سے قائم ہے، وہ نہ ہوتا گو یا د نیا غارت ہی ہو جاتی ۔ اور میرا کامل یقین یہ ہے کہ اسی کے مبارک وجود کے طفیل جو سراسر رحمت الہی کا مظہر