مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 430
تھے اور معاملہ فہم تھے مگر ہم دونوں بھائی کم سن اور نو آموز۔غرض والد صاحب کے تشریف فرما ہونے کے بعد چھوٹا بھائی زکریا مدراس کواپنی خاص دوکان پر روانہ ہو گیا۔چونکہ وہ میرے سے زیادہ معاملہ فہم اورطبیعت کا ہر ایک طرح سے تیز تھا اس لئے میرے بڑے بھائی نے ان کووہاں روانہ کر دیا اور میرے دوسرے چچا زاد بھائی کو الگ دوکان پر بٹھایا اوراپنے تئیں مجھے بڑی دوکان کے لئے تجویز فرمایا۔اور بعد اس کے خود بھی جلد کسی کام کے پیش آ جانے سے مدراس روانہ ہوگئے اور میں اکیلا یہاں دوکان پر رہ گیا اور اس وقت تک میں گویا ایک آزاد زندگی بسر کرتا تھا اور اب پابند ہوگیا اس لئے اب کچھ کچھ بوجھ معاملہ کا اور خانہ داری کا محسوس ہونے لگا۔چونکہ ابتدا سے ہمارے چچا زاد بھائیوں کا کھانا پینا الگ ہی تھا صرف معاملہ شرکت کا تھا۔غرض ہر ایک قسم کی آزمائش ہونے لگی اور بہت جلد طبیعت آئندہ کے لئے ہوشیا ر ہو چلی۔تجارت پیشہ میں بھی ایک شمار ہونے لگا اور کچھ عزت اور وقار کی نظر سے ابنائے جنس میں دیکھا جانے لگا اور بمصداق ع تکیہ برجائے بزرگان نتواں زد بگزاف مگر اسباب بزرگی ہمہ آمادہ کنی ہر ایک موقعہ اور محل کا فہم گویا خدا سے ہی ملنے لگ گیا اورکوئی ایک برس کے بعد مدراس جانے کی نوبت پیش آگئی۔والد مرحوم کابعد حج شاید دوسرے یا تیسرے دن مکہ معظمہ میں انتقال ہو گیا اور بڑا سخت صدمہ اس حادثہ سے دل کو پہنچا جس کو یہ عاجز اب تک نہیں بھولا۔غرض اس حادثہ جانکاہ کے بعد میرا بھائی بنگلور آ گیا اور مجھے وہاں جانا پڑا۔بعد پہنچنے کے میرے چچا زاد بڑے بھائی جو وہاں موجود تھے صرف دو یا تین دن رہے اور بنگلور کو روانہ ہو گئے۔ان کی اس حرکت سے سخت حیرانی ہوگئی یعنی ایک تو میں بالکل نیا اورپھر ہر ایک طرح سے نوآموز۔دفتر وغیرہ لکھنے کی بالکل تمیز نہ تھی اور نہ کسی اہل معاملہ سے شناسائی کروائی اورنہ کچھ زبان سے کہا اور کیا تو یہ کیا کہ چلنے پر آمادہ ہو گئے اور یہاں مجھے گویا قیامت کا سامنا ہوگیا۔ہزاروں کالین دین اور کچھ بھی خبر ندارد۔مگر کیا ہو سکتا تھا بجز اس کے کہ قہر درویش برجان درویش۔کبھی تو گھبرا کر رو پڑتا تھا اور کبھی دفتروں کو پاس رکھ کر ساری ساری رات غور کیا کرتا تھا۔اس وقت ایک مدراسی مسلمان ہمارے کام میں تھے جن کو کام و کاج کا کچھ تجربہ تھا ان سے مجھے مدد ملتی رہی۔غرض یہ کہ ان سب باتوں پرمیں بہت جلد حاوی ہو گیا اورپھر معاملہ کے