مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 430
مکتوبات احمد ۴۳۰ جلد دوم کے چھ پر روانہ کرنے کے لئے فرمائش دی اور میں، کے پتہ پر روانہ کرنے کے لئے فرمائش دی اور میں مدراس واپس گیا ۔ اس وقت یہ کتا بیں پہنچ گئی تھیں ۔ غرض پھر اسی طرح سے میں اس کا چرچا کرتا رہا اور سلطان محمود صاحب اور ان کے برادر زادے اپنی جگہ پر باہم اس بارے میں بحث کرتے تھے اور آخر وفات عیسی پر دونوں کا اتفاق ہو گیا اور سلطان محمود صاحب نے مجھے خط لکھا اور حضور کی کتابوں کی خواہش ظاہر کی ۔ اس خط کی طرز تحریر سے یہ پتہ لگ گیا کہ حضور کی جانب ان کا حسن ظن ہے۔ غرض میرے پاس جو کتا بیں موجود تھیں وہ تو بھیج دیں اور آئینہ کمالات اسلام ایک مولوی کو دی تھی ان سے لینے کو لکھ دیا اور پھر میں نے ملاقات کی اور میرے سے زیادہ ان کا میلان حضور کی طرف پایا۔ اور اس وقت تک وفات عیسیٰ پر مجھے کامل یقین نہ ہوا تھا مگر ان کے دوستوں مولویوں سے ۔ غرض ان کا حضور کی طرف رجوع کرنا بڑی تقویت کا باعث ہو گیا اور ایک قلیل عرصہ میں ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہوگئی ہے اور شہر میں زور شور کے ساتھ اس کی شہرت ہونے لگی ۔ یہ وہ وقت تھا کہ ان مولویوں اور ملانوں کی اچھی طرح سے قلعی کھلنے لگی اور ان کی اندرونی حالت کا پورا اظہار ہونے لگا جس کی وجہ سے حضور کی طرف کمال درجہ کا یقین بڑھتا گیا یہاں تک کہ حضور کی خدمت میں خط لکھا گیا اور جس قد ر لوگ اس وقت تک اس سلسلہ میں شریک ہوئے تھے ان سب کے دستخط لئے گئے ۔ بعد اس کے جو کچھ ان ملانوں کا حال دیکھا وہ احادیث کے موافق تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں پہلے سے بطور پیشگوئی بتا رکھی تھیں ۔ عوام میں ایک خطرناک جوش ان کے دجل اور کذب سے پھیل گیا اور اب یہاں کے مسلمانوں کے اسلام کا حال ایک نئے رنگ میں ظاہر ہونے لگا ۔ جس سے ضرورت امام پر میرا یقین بڑھتا گیا اور حضور کی زیارت کا شوق دن بدن بڑھنے لگا اور اس فکر میں ہوا کہ کوئی اچھا رفیق مل جائے تو روانہ ہو آؤں ۔ وہاں کے ایک مولوی جن سے زیادہ تعلق تھا اور جو بظاہر منافقانہ طریق پر ملتے جلتے بھی تھے مگر باطن میں پورا دشمن تھا جس سے میں اب تک ناواقف تھا۔ ان کو ساتھ لانے کی صلاح ہوئی ۔ وہ تر ملکھڑی کی جامع میں رہتے تھے جہاں میں گاڑی پر سوار ہو کر گیا اور حاجی بادشاہ صاحب کے مکان پر جو وہ بھی اندرونی احاطہ مسجد ہی میں واقعہ ہے ملاقات ہو گئی اور مذکور بادشاہ صاحب وہاں کے ایک مشہور اور نامی تاجر ہیں ۔ ان مولوی صاحب نے ہماری مخالفت اختیار کرنے کے بعد وہاں اپنے قدم جمانے شروع کر دیئے ۔ یہ بادشاہ صاحب بھی اگر چہ سخت مخالف تھے لیکن