مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 429
کی لکھوائی ہوئی اَدعیہ میں سے ایک ابھی تک میرا دستور العمل ہے لیکن بعد اس کے بہت جلد میری شادی ہوئی۔میری عمر کا شاید چودہواں سال ہو گا جومیری یہ تقریب ہوئی۔اورمیری حالت اس وقت تک یہ تھی کہ میں اس کی غرض وغیرہ سے بالکل نا آشنا تھا۔یعنی کچھ بھی خبر نہ تھی کہ شادی سے غرض کیا ہوتی ہے۔غرض بعد شادی کے بھی مجھے زیادہ اُنس مسجد اور اچھے لوگوںکی صحبت سے رہی۔اگرچہ ایک حد تک دوکانداری بعد شادی کے ضروری امر ہوگیا مگر میں اس کے واسطے کچھ پرواہ نہیں کرتا تھا۔میری بیوی اس وقت کبھی میرے پاس رہتی تھی کبھی میکے میں گزارتی تھی۔اکثر عادت ایسی تھی کہ ایک ہفتہ یہاں اور ایک ہفتہ وہاں ان کاگزرتا تھا۔مگر میری یہ حالت رہتی تھی کہ جب وہ میکے میں ہوتی تھیں تو میں بڑا خوش رہتا تھا۔چونکہ کمرہ خالی ہوتا اور میں مصلّے ہی پر صبح کرتا تھا اس لئے مجھے اس تنہائی میں ایک خاص لطف معلوم ہوتا تھا۔میرے سسرال کو چند روز کے لئے سفر درپیش آیا اور انہوں نے میری بی بی کو ساتھ لے جانا چاہا اور میرے والدین سے اس امر کی درخواست کی اوران کو یہ بات ناپسند تھی مگر میری یہ خواہش تھی کہ اگر یہ اجازت دے دیں تو مجھے ایک عرصہ تک تنہائی میسر رہے گی۔غرض ایسا ہی ہوا اور مجھے تنہائی میسر ہو گئی اور میں اس تنہائی میں اپنے شغل میں لگا رہتا تھا اور کچھ کچھ باطنی صفائی بھی مجھے محسوس ہوتی تھی اور اچھے اچھے خواب بھی آتے تھے۔دیوان حافظ وغیرہ ایسی کتابوں کے ساتھ مجھے خاص رغبت رہتی تھی اور میں وہ دن بڑی خوشی اور ذوق کے ساتھ گزارتا تھا۔غرض جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں یعنی دو تین سال میرے اسی طرح گزرے اور اس کے بعد میرے چھوٹے بھائی زکریا مرحوم کی شادی ٹھہری اور میرے والد اس سے بہت محبت کیا کرتے تھے اور اس کو بہت ہی چاہتے تھے کیونکہ جیسے وہ کمال درجہ کے شکیل تھے ویسے ہی ذکی الطبع بھی تھے۔پس ان کی شادی اس وقت کے رسم ورواج کے موافق بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔جب اس شادی سے فراغت پا چکے تو انہوں نے حج بیت اللہ کا ارادہ فرمایا اوراس اثنا میں ہماری دوکان مدراس میں الگ شروع ہو گئی جو اس سے پیشتر چند شرکاؤں میں چلتی تھی۔اب سب شرکاء نے اپنی اپنی جدا جدا دوکانیں کھول کر مشترکہ دوکان کو بند کر دیا۔اس مشترکہ دوکان میں چار شریک تھے جن کی اب چار دوکانیں ہوگئیں۔والد مرحوم نے مجھ کواور زکریا مرحوم کو یہا ںچھوڑا اور باقی سب کو ہمراہ لے کر بیت اللہ شریف کو راہی ہوگئے اور یہاں دو بھائی ہم اورہمارے دو چچا زاد بھائی تھے جو بڑی عمر کے