مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 420
مکتوب نمبر ۹۰ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔الحمدللہ کہ آثار بہبودی ظاہر ہونے لگے۔سلسلہ دعا کا برابر جاری ہے۔سیٹھ دال جی صاحب نے جو مشک بھیجی ہے۔خدا ان کو جزائے خیر دے۔اصل بات یہ ہے کہ عمدہ مشک ملتی ہی نہیں۔کبھی کبھی ہاتھ آتی ہے۔سو یہ مشک بھی درمیانی درجہ کی ہے بہرحال خدا تعالیٰ اس خدمت کانیک پاداش ان کو عطا کرے آمین۔میں آپ کی طرف خط نہیں لکھ سکا کہ معلوم ہوا کہ وہ مدراس میں نہیں ہیں۔آپ میری طرف سے السلام علیکم کہہ دیں۔والسلام ۲۸؍ ستمبر ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۹۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج عنایت نامہ جس میں کچھ پریشانی حال اور ایک خواب درج تھی، پہنچا۔خواب گویا اس پریشانی کا جواب تھا۔تعجب کہ اس قدر عمدہ خوابیں آپ کو ہوتی ہیں اورپھر بھی تفکّرات دامن گیر ہوتے ہیں۔یہ خواب آپ کے لئے بڑی ایک بشارت ہے کہ خدا تعالیٰ پھر آپ کو عزت اور مرتبت کی سواری پر بٹھانے والا ہے اورازروئے تعبیر کے جو اَب مال ہے جو دشمن کے دست برد سے بچایا جائے یا کوئی خزانہ جو مل جائے یا وفادار عورت۔اور میرے گھر میں سے جو آپ کو جواب دیا تھا تو اس کی تعبیر دو ہوسکتی ہے۔ایک یہ کہ ان کانام نصرت جہاں بیگم اوریہ خدا کی نصرت کی طرف اشارہ ہے