مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 416
گی۔ایسا ہی وہ شخص جو یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا وہ بلاشبہ ضائع نہیںہو گا۔غم تب آتا ہے جب ایمان جاتا ہے۔ایک تو بشریت کاغم ہے اس میں تو ایک حد تک انسان معذور ہوتا ہے جب کہ کسی کی موت پر غم آتا ہے اس میں تو انبیاء بھی شریک ہوتے ہیں جب کہ حضرت یعقوبؑ، یوسف ؑ کی جدائی میں چالیس برس تک روتے رہے۔وہ بشریت کا غم تھا۔مگر ایک ضعف ایمان کا غم ہوتا ہے جیسا کہ کوئی نادان یہ غم کرے کہ اب میر اکیا حال ہو گا،کیونکر مجھے روٹی اور کپڑا ملے گا۔عیال کا کیا حال ہو گا۔اس غم سے اگر انسان توبہ نہ کرے تو کافر ہو جاتا ہے کیونکہ اپنے رازق کا منکر ہے۔دعا کا سلسلہ خوب سرگرمی سے جاری ہے۔ہر ایک ساعت خد اتعالیٰ کے فضل کی امید ہے۔والسلام ٭ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء خاکسار میرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۸۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ور حمتہ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔مجھ کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ برخلاف طبیعت کچے دنیا داروں کے جو ایک رنگ میں دہریہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو استقامت بخشی۔یہ بڑی نعمت ہے بشرطیکہ دوسرے لوازم اطاعت بھی ساتھ ہوں۔مجھے بہت کم اتفاق ہو ا ہو گا کہ آپ کے امر میں میں نے کبھی قسم کھائی ہو لیکن میں اس خدا ئے حیّ و قیوم کی قسم کھاتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے اس قدر آپ کے لئے دعائیں کی ہیں کہ اگر وہ ایک درخت خشک کے لئے کی جائیں تووہ بھی سبز ہو جائے اور ابھی میں تھکا نہیں، جب تک وہ فرشتہ ظاہر نہ ہو کہ جو قضاو قدر کے امر کو ظاہر ہوتا ہوا دکھلائی دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ عادت ہے کہ جب دعا انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو آخر