مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 415

مکتوب نمبر ۸۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی آپ پر ایک رحمت ہے کہ آپ نے میری اس نصیحت میں غفلت نہیں کی کہ خط برابر بھیجا جاوے اورمیں جس قدر خد اتعالیٰ کے عجیب اورخارقِ عادت فضلوں پر یقین رکھتا ہوں، کاش اگر کوئی ایسا طریق ہو تاکہ میں آپ کے د ل میں بھی ڈال سکتا۔خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت اورقدرت کا تجربہ اگر ہو تو وہ اس حالت میں بھی انسان کوناامید نہیں کر سکتا کہ جب انسان پابہ زنجیر زندان میں ہو۔دیکھتا ہوں کہ دنیا کے ا ور اسباب سے سب امیدیں ہماری ٹوٹ چکی ہیں لیکن جب تک ہم قبر میں داخل ہو جائیں یہ امید ہماری ٹوٹنے کے قابل نہیں ہے کہ ہمارا خدا وہ خداہے جو ہر ایک بات پر قادر ہے۔انسان کی طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ دو چار تجربہ سے خواص اشیاء پر یقین کر لیتا ہے مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ پانی ہمیشہ پیاس کو بجھاتا ہے اور روٹی ایک بھوکے انسان کوسیر کرتی ہے، کسڑآئل دست لاتا ہے، سِمُّ الفار پوری خوراک پر ہلاک کردیتا ہے۔تو پھر خد اتعالیٰ کے فضل اور رحم پر کیوں یقین نہ کریں جس کو ہم اپنی زندگی میں صدہا مرتبہ آزما چکے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ گھبراہٹ ضعف ایمان کے باعث ہوتی ہے۔اگر کسی کو یہ یقین ہوکہ میرا ایک خدا ہے جو مجھے ہر گز ضائع نہیں کرے گا تو ممکن ہی نہیں کہ وہ غمگین ہو اور کیونکر غمگین ہو سکے۔انسان تو آدمی سے بھی تسلی پاکر غمگین نہیں ہوتا۔مثلاً اگر کسی کو لاکھ دو لاکھ روپیہ کی ضرورت پیش آجائے اوراس کے پاس ایک پیسہ نہیں اوروہ فکر ادائیگی میں مر رہا ہے اور کوئی رفیق نہیں تو غم سے ہلاک ہو جائے گا۔جس طرح سر سیّداحمد خان ایک لاکھ روپیہ کے غم سے دنیا سے کوچ کرگئے۔لیکن اگر ایسے مضطرب آدمی کو کوئی دوست مل جائے جو ذات کاچوہڑا یعنی بھنگی ہے یا چمار ہے اور وہ بہت دولت مند ہو اور وہ اس کو تسلی د ے کہ تو غم نہ کر کچھ دیرکے بعد یہ تمام روپیہ تیرا ادا کردوںگا اوراس کو یقین آجائے کہ اب بلاشبہ اپنے وعدہ پر یہ شخص تمام روپیہ ادا کردے گا تو قبل پہنچنے روپیہ کے جس قدر اس کو کشاکش ہو رہی ہے وہ اس کی نظر میں ایک معمولی ہو جائے گا اور چہرہ پر افسردگی نہیں رہے