مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 395

مکتوب نمبر۶۶ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔میں باوجود علالت طبع کے اور باوجود ایسی حالتوں کے کہ میں نے خیال کیا کہ شاید زندگی میں سے چند دم باقی ہیں، آپ کو دعا کرنے میں فراموش نہیں کیا بلکہ انہیں حالات میں نہایت درد دل سے دعا کی ہے اور اب تک میرے جوش میں کمی نہیں ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس خط کے پہنچنے تک کتنی دفعہ مجھ کودعا کا موقع ملے گا۔میں ہرگز باور نہیں کرتا کہ یہ دعائیں میری قبول نہ ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے آپ اس گھڑی کے یقین دل سے منتظر رہیں جبکہ دعائوں کی قبولیت ظاہر ہو۔ایک بڑے یقین کے ساتھ انتظار کرنا بڑا اثر رکھتا ہے۔میں آپ کو نہیں بتلا سکتا کہ میں آپ کے لئے کس توجہ سے دعا کرتا ہوں۔یہ حالت خد ا تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ان دنوں میں میری طبیعت بہت بیمار ہو گئی تھی ایک دفعہ مرض کا خطرناک حملہ بھی ہوا تھا۔مگر شکرباری ہے کہ اس وقت میں بھی میں نے بہت دعا کی ہے اوراب تک طبیعت بہت کمزور ہے اس لئے کتاب کی تالیف میں بھی حرج ہے۔ایک نہایت ضروری امر کے لئے آپ کولکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ مدراس میں ایک میلہ یوز آسف کا سال بسال ہوا کرتا ہے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ میلہ کرتے ہیں وہ یوز آسف کس کو کہتے ہیں اور کس مرتبہ کا انسان اس کو سمجھتے ہیں اور نیز ان کاکیا اعتقاد ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور کس قوم میں سے تھا۔اور کیا مذہب رکھتا تھا اور نیز یہ کہ کیا اس جگہ کوئی یوزآسف کا کوئی مقام موجود ہے اور کیا ان لوگوں کے پاس …کوئی ایسی تحریریں ہیں جن سے یوز آسف کے سوانح معلوم ہو سکیں اور ایسا ہی دوسرے حالات جہاں تک ممکن ہوسکے دریافت کر کے جلد تر مجھ کو اس سے اطلاع بخشیں کیونکہ اس وقت کہ جواب آوے یہ کتاب معرضِ التوا میں رہے گی۔اور میں نے باوجود ضعف طبیعت کے نہایت ضروری سمجھ کر یہ خط لکھا ہے۔اللہ تعالیٰ خیروعافیت سے اس خط کو پہنچاوے۔باقی خیریت ہے۔والسلام ٭ ۱۱؍ جون ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد