مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 385

مکتوب نمبر۵۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔پہلے خط کے روانہ کرنے کے بعد آج مبلغ سو روپیہ مرسلہ آنمکرم بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔میں آپ کے اس صدق و اخلاص سے نہایت امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔مجھے آپ کے روپیہ سے اپنے کاروبار میں اس قدر مدد ملتی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء یہی عملی حالت ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل وکرم پر بہت ہی امید دلاتی ہے۔چونکہ مجھے اپنے سلسلہ طبع تک میں ایسی حاجتیں پیش آتی رہتی ہیں اور مجھے اس سے زیادہ دنیا میں کوئی غم نہیںکہ جو میں بوجہ نہ میسر آنے مالی سر مایہ کے طبع کتب دینیہ سے مجبور رہ جائوں۔اس لئے میں ایک یہی حکمت عملی آپ کے متعلق دیکھتا ہوں کہ آپ دل میں ایک نذر مقرر کر چھوڑیں کہ اگر ایک عمدہ کامیابی امور تجارت میں آپ کو میسر آوے تو آپ یکمشت نذرا س کارخانہ کے لئے ارسال فرماویں۔کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے اس صدق اور اخلاص پر نظر کر کے وہ کامیابی آپ کے نصیب کرے کہ جو فوق العادت ہو اور اس ذریعہ سے اس اپنے سلسلہ کو بھی کافی مدد پہنچ جاوے کیونکہ اب یہ سلسلہ مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اور شاید یہ کام طبع کتب کا آگے کو بند ہو جائے۔آپ کی طرف سے جو مدد آتی ہے وہ لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتی ہے اور مجھے جس قدر آپ کے کاروبار کے لئے توجہ ہے، یہ ایک دلی خواہش ہے جوخدا تعالیٰ نے مجھ میں پید ا کی ہے اور یہ یقین جانتا ہوں کہ یہ خالی نہیں جائے گا۔کیا تعجب کہ اس نیت کے پختہ کرنے پر خدا تعالیٰ فوق العادت کے طور پر آپ سے کوئی رحمت کا معاملہ کرے۔میں تو جانتا ہوںآپ نہایت خوش نصیب ہیں، آپ کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔کیونکہ آپ اس طرف دل سے اور پورے اعتقاد سے جھک گئے ہیں۔سو اگر تمام دنیا کا کاروبار تباہی میں آجائے تب بھی میں یقین نہیں کرتا کہ آپ ضائع کئے جائیں۔والسلام ۲۱؍ اکتوبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ