مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 383

مکتوب نمبر ۵۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے لکھا ہے آپ کے صدق و اخلاص پر قوی نشانی ہے میں نے جو خط لکھا تھا اس کے لکھنے کے لئے یہ تحریک پید اہوئی تھی جو چند ہفتہ ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَہٗ دَفَعَ اِلَیہِ مِنْ مَّالِہٖ دَفْعَۃً۔۱؎ اس میں تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصہ اپنے مال میں سے بطور نذر بھجوائے گا۔میں نے ا س الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا۔بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر مسجد کی نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر چسپاں کر دیا۔اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کس شخص کو ایسے کامیابی ہو گی یاایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔لیکن چونکہ میر ادل آنمکرم کی کامیابی کی طرف لگا ہوا ہے اس لئے طبیعت نے یہی چاہا کہ کسی وقت اس کے مصداق آپ ہی ہوں اور خدا تعالیٰ ایسا کرے۔کیا اللہ جلّشانہٗ کے نزدیک لاکھ دو لاکھ روپیہ کچھ بڑی بات ہے۔دعائوں میں اثر ہوتے ہیں مگر صبر سے ان کا ظہور ضرور ہوتا ہے۔میرے نزدیک نہایت ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جو ہمیشہ اپنے تئیں دعا کے سلسلہ کے نزدیک رکھتا ہے اگر تمام جہان اس قول کے برخلاف ہو جائے تب بھی وہ سب غلطی پر ہیں۔دعا سے بڑے بڑے انقلاب پید اہو جاتے ہیں۔دعا زمین سے لے کر آسمان تک اپنا اثر رکھتی ہے۔عجیب کرشمے دکھاتی ہے۔ہاں پورے طور پر اس زندہ دعا کا ظہور میں آجانا اور ہو جانا، یہی خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔میں آپ کے شدت اخلاص کی وجہ سے اس میں لگا ہوا ہوں کہ اعلیٰ درجہ کی زندہ دعا آپ کے حق میں ہو جاوے۔اور جس طرح شکاری ایک جگہ سے دام اٹھاتا ہے اور دوسری جگہ بچھاتا ہے تا کسی طرح شکار مارنے میں کامیاب ہو جائے۔اس طرح میں ہر طرح سے دعا میں روحانی حیلوں کو استعمال میں لاتا ہوں۔اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ القدیر والموفق، میں اسبات کو اسی قادر کے فضل وکرم اور توفیق سے دکھلائوں گا کہ زندہ دعا اس کو کہتے ہیں۔ہمارا خدا بڑی قدرتوں