مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 382
مکتوب نمبر ۵۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سَو روپیہ مرسلہ آنمکرم مجھ کو ملا۔جزا کم اللّٰہ خیرالجزاء۔آپ کا عنایت نامہ بھی مجھ کو ملا۔میں اس بات پر یقین کامل رکھتا ہوںکہ جس قدر میں نے آپ کے حق میں دعا کی ہے اور کر رہا ہوں گو بظاہر ابھی کچھ بھی آثار ظاہر نہ ہوں تب بھی پوشیدہ طور پر آپ کے لئے بہتری کی تجویز ہے بلکہ شاید آپ کی بہتری کی غرض سے بعض اور ہم پیشوں کی بہتری بھی ہو جائے اور میں ابھی تک دعا میں سست نہیں ہوا۔شاید آپ جس وقت سوتے ہوں اس وقت میں آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوتا ہوں۔آپ کی یہ نہایت خوشی قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو نہایت نیک اور پختہ اعتقاد بخشا ہے۔پس یہی ایک چیز ہے جس سے فتح یابی کی امید ہو سکتی ہے کیونکہ جس قدر اعتقاد ہوتا ہے اسی قدر دعا میں تحریک بھی ہوتی ہے۔سو یہ ایک پاک دانائی ہے جو ہر ایک کو میسر نہیں آتی جو آپ کے دل میں ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ جلد تر آپ کو اپنے مقاصد میں کامیاب فرماوے آمین۔اور ان دنوں میں یہ دعا بھی کرتا رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ مدراس کو ہیضہ سے نجات بخشے اور طاعون سے محفوظ رکھے اور دونوں بلائوں کو آپ سے اورآپ کے عزیزوں سے دور رکھے۔امید کہ حالات خیریت آیات سے ہمیشہ مطلع فرماتے رہیں۔والسلام ۲؍ ستمبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد