مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 374
خودبخود تحلیل ہو کر کم ہو جاتی ہے۔کسی کو ایک ذرہ خیال نہیں ہوتا کہ کب ہوئی اور کب گئی۔بلکہ اس کو مرض ہی نہیں سمجھتے۔تمام لوگ خوب راضی اور خوشی اوراپنے کاموں میں مشغول ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور اِردگرد سخت خوفناک موتیں ہو رہی ہیں۔سُنا ہے کہ کلکتہ میں بھی طاعون پھوٹی ہے۔شاید یکم مئی ۹۸ء کو چوبیس وارداتیں ہوئیں۔امید کہ آپ ہمیشہ اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں۔میں نے عید کے دن طاعون کے بارے میں ایک جلسہ کیا تھا وہ اشتہار چھپ رہا ہے جب چھپ چکے گا ارسال کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔والسلام ۱۵؍ مئی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۴۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔اللہ تعالیٰ آپ کی تکالیف دور فرماوے۔اگر تفکرات ہوں تو مجھے ہر روز خط لکھتے رہیں تا توجہ سرگرمی سے رہے۔اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے کریم ہے، بڑی بڑی امیدیں اس کی ذات پرہیں امید قوی ہے کہ وہ فضل کرے گا اور کوئی راہ نکال دے گا۔میں یقینا سمجھتا ہوں اور اس پر ایمان رکھتا ہوں جو کچھ سخت ترددات کے وقت میں خدا تعالیٰ غم کو کم کرتا رہا ہے وہ اسی کا فضل ہے اور اسی کی استجابت دعا کا اثر ہے۔امید رکھتا ہوں کہ آپ ہر روزہ کارڈ سے مجھ کو اطلاع بخشتے رہیں گے۔والسلام۔عزیزی سیٹھ احمد عبدالرحمن صاحب کی اہلیہ کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک ابتلا سے بچاوے۔آمین۔خاکسار ۱۶؍ مئی ۱۸۹۸ء مرزا غلام احمد عفی عنہ