مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 363

ہوں تو بعد استخارہ مسنون ان دنوں میں جو سفر کے بہت مناسب حال ہیں، تشریف لاویں۔لیکن اگر راہ میں بوجہ بیماری طاعون کے تکلیف قرنطینہ در پیش ہو اور کچھ تکلیف دہ روکیں ہوں جس کی مجھے اطلاع نہیں ہے تو اس امر کو خوب دریافت کر لیں۔غرض تشریف لانے کے یہی دن ہیں۔شاید آپ کا یہ کام ہی جناب الٰہی میں قابل رحم تصور ہو مگر میں بار بار آپ کو وصیتاً بھی کہتا ہوں کہ یہ تکالیف خدا تعالیٰ کے نزدیک کچھ چیز نہیں ہیں، صرف ثواب اور اجر دینے کیلئے خدا تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے اس لئے آپ بہت استقلال اور مردانہ شجاعت اور بہادری سے بڑ ے قوی صبر سے ساتھ روز کشایش کے منتظر رہیں کہ جب وہ وقت آئے گاتو ایک دم میں فضل الٰہی شامل حال ہو جائے گا۔آپ کیلئے اس خلوص اور توجہ کے ساتھ دعا کر رہا ہوں کہ جس سے بڑھ کر متصوّر نہیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۱۳؍ نومبر ۱۸۹۷ء خاکسار مرز اغلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۲۹ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔آج کئی دن کے بعد آنمکرم کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔میں اوّل بمقام ملتان ایک گواہی کے لئے گیا تھا۔پھر وہاں سے آکر دومرتبہ سخت بیمار ہوگیا۔ایک دفعہ شدت بیماری سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آخری د م ہے۔ان حالات میں بھی میں آپ کے لئے دعا کرتا رہا۔اب میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے جیسا کہ میں نے وعدہ کیا ہے آپ کے لئے بہت دعا کروں جب تک اس دعا کا وقت پہنچ جائے کہ اللہ تعالیٰ قبولیت سے بشارت بخشے۔سو آپ مطمئن رہیں وہ خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ نہایت کریم اور رحیم ہے اور آخر اپنے ضعیف بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ابتلائوں کا آنا ضروری ہے مومن کو چاہئے کہ ایک بہادر کی طرح ان کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ مومن کو تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ابتلائوں کو اس لئے نازل کرتاہے کہ اس کے گناہ بخشے اور اس کامرتبہ زیادہ کرے۔میں آپ کے لئے بہت جدوجہد سے دعا کروں گا اور خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا کو